اصحاب احمد (جلد 1) — Page 154
152 کتاب کو الہامی ماننے کے یہ معنے نہیں کہ اس کی ہر بات مان لی جائے۔وہی بات مانی جائے گی جو عقل کے مطابق ہوگی۔آپ کو یہ بات بُری معلوم ہوئی۔اور آپ نے چند دوستوں کے پاس شکایت بھی کی کہ یہ بھی عجیب مسلمان ہیں۔آپ چاہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کو قرآن مجید کے کسی حکم کو ماننے سے عقل کی بناء پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔اس بات پر خود آپ پر رد عمل ہوا۔اور آپ نے اپنے تئیں مخاطب کر کے کہا کہ تم ڈاکٹر کچلو کو تو الزام دیتے ہو مگر خود تمہارا کیا حال ہے؟ حضرت اقدس کو صادق مانتے ہو مگر آپ کے فرمودہ وصیت کے نظام میں شامل ہونے کو تیار نہیں۔اسی ضمن میں دوسری بات یہ ہوئی کہ آپ ہوشیار پور میں تھے۔ایک سب جج صاحب آپ کے مکان پر آئے۔ان کے دریافت کرنے پر آپ نے اپنے لڑ کے ملک سعید احمد صاحب کے متعلق بتایا کہ انہوں نے بی۔اے کا امتحان دیا ہے اور اب ان کا خاص شغل تبلیغ احمدیت ہے۔انہوں نے اس بات کا ثبوت طلب کیا کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والا بہشتی ہی ہوتا ہے۔ملک سعید احمد صاحب نے کچھ جواب دیا مگر وہ اعتراض کرتے رہے۔اس وقت باپ بیٹا دونوں کو ایسا کوئی جواب نہ آتا تھا جس سے معترض کو خاموش کراسکتے۔فوراً ایک بات اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالی۔آپ نے سب جج صاحب سے پوچھا آپ مسلمان ہیں۔بھلا یہ تو بتلائیں کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ بہشت ہے بھی؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک ڈھکوسلہ ہے۔یہ سن کر وہ سٹھیا گئے کہ یہ کیا لینے کے دینے پڑ گئے۔آپ نے ان کی مدد کی اور کہا کہ ثبوت یہی ہے نا کہ محمد رسول اللہ صلعم جیسے انسان نے جسے ہم صادق سمجھتے ہیں ایسا کہا ہے۔انہیں یہ دلیل معقول نظر آئی اور جھٹ کہا ہاں۔ملک صاحب نے کہا پھر بہشتی مقبرہ والی بات کی بھی یہی دلیل ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جنہیں ہم صادق سمجھتے ہیں۔ایسا کہا ہے۔پس ہم سے بحث اس امر پر کرو کہ حضرت مرزا صاحب صادق ہیں یا نہیں۔اگر حضور صادق ثابت ہوں۔تو آپ کا یہ فرمان بھی جس کا تعلق حیات ما بعد الموت سے ہے سچ ماننا پڑے گا۔سب جج صاحب کو اس کا کوئی جواب نہ آیا اور خاموش ہو گئے۔اس بحث نے ملک صاحب کے لئے تربیت کی ایک بڑی منزل طے کر دی اور آپ کو وصیت کے ضروری ہونے پر دلیل مل گئی۔اور آپ نے دل میں کہا کہ اگر میری اس دلیل سے غیر احمدی کا منہ بند ہوسکتا ہے تو مجھے اور کیا دلیل درکار ہے۔الغرض آپ کو بالکل تسلی ہو گئی اور آپ نے پورے انشراح صدر سے وصیت کر دی۔قادیان میں خرید زمین : آپ کو کئی دفعہ خیال آتا تھا کہ قادیان میں ایک کنال زمین خرید لیں۔گو تنخواہ اور الاؤنس ملا کر آپ کا مشاہرہ قریباً پونے تین صد روپیہ تھا لیکن آپ کچھ بھی پس انداز نہیں کر سکتے تھے۔آپ کے عرض کرنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میضہم نے ایک کنال زمین کی قیمت کی ادائیگی پچیس روپے ماہوار کے