اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 142 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 142

140 لکھی نہ سنی تھی۔فرمایا ”انا نے سانپ کو بڑھاپے نے جوانی کو مار ڈالا۔تم بھی ایک میں اپنے اختلافات کو مار ڈالو۔* بیدار ہوا تو مجھے یقین تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیعت خلافت کرلو۔چنانچہ میں نے پہلے جلدی ہی ( بیعت کا ) خط لکھ دیا اور پھر بعد میں دستی بیعت بھی کی۔لاہور کے جلسہ (سالانہ) کی تاریخ ابتدا ء ایک دن پہلے تھی۔اس لئے پہلے دن میں نے لاہور کا جلسہ دیکھا اور پھر قادیان چلا گیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے جو بوقت وفات حضرت خلیفہ اول ولایت میں تھے واپس آچکے تھے۔انہوں نے مجھے سٹیج پر بلا کر معانقہ کیا اور کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔میں نے کہا (کہ) یہ تو آپ بڑے لوگ ہی جانیں۔چونکہ وہ ( بھی ) کشمیری تھے اور میں بھی کشمیری۔۔۔۔۔۔۔(اسے مدنظر رکھ کر) انہوں نے کہا اچھا خیر ہے چاول رگڑ رگڑ کر ہی سفید نکلتے ہیں۔“ ملک صاحب سے میاں اللہ بخش صاحب احمدی کلاه فروش امر تسر نے بعد میں دریافت کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے لاہور اور قادیان دونوں جلسے دیکھتے ہیں۔آپ نے کہا کہ لاہور میں محض منطق اور دلائل بلا روحانیت ہیں اور قادیان میں روحانیت بھی ہے۔انہوں نے اس کا ذکر مولوی یار محمد صاحب مختار سکنه نور پور مدعی خلافت سے کیا تو انہوں نے جھٹ مجھے اپنے الہامات اور دلائل پر مشتمل اک پلندہ بھیج دیا اور مطالبہ کیا کہ قادیان میں جو روحانیت دیکھی ہے۔انہیں بتلاؤں چونکہ ان کے دماغ میں نقص تھا اس لئے میں نے جواب نہ دیا۔ماسٹر عبدالحق صاحب عیسائی کی بیعت : ملک صاحب بیان کرتے تھے کہ : غالبا ۱۹۰۲ء کی بات ہے کہ ایک عیسائی گریجوایٹ ماسٹر عبدالحق نام قادیان تشریف لائے۔وہ کئی سوالات لکھ کر لائے ہوئے تھے۔ابھی اُنہوں نے غالباً تثلیث کے متعلق ہی سوال کیا اور کہا تھا مناظر قدرت مثلاً درخت اور اس کی ٹہنیاں انسان کا بدن اور پھیلائے ہوئے ہاتھ اس پر گواہ ہیں۔اس پر سیر میں حضور نے تقریر فرمائی جو غالباً تین دن جاری رہی۔یہ تقریر اخبار الحکم میں چھپ چکی ہے۔مگر جو بات میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ جب ہم نے ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ کا تقریر کے متعلق کیا خیال ہے۔تو * ملک صاحب فرماتے تھے کہ اپنے اختلافات کو“ کے الفاظ مفہوم ہیں باقی کے حضور کے فرمودہ الفاظ ہی ہیں میں سارے بیان میں سوائے خط کشیدہ کے باقی خطوط وحدانی کے الفاظ مؤلف کی طرف سے ہیں۔(مؤلف)