اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 137 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 137

135 آپ اس امر پر بہت اظہار تاسف کرتے تھے کہ باوجود یکہ امرتسر قادیان سے بالکل قریب تھا آپ بکثرت قادیان آ کر حضرت اقدس کی صحبت بابرکت سے مستفیض نہ ہو سکے۔نو خیزی عمر بھی شاید اس کا باعث تھی۔آپ قادیان چار پانچ دن کے لئے ایک بار عدالتوں میں ماہ تمبر میں تعطیلات ہونے پر اور دوسری بار جلسہ سالانہ پر آیا کرتے تھے۔قادیان کے متعلق ملک صاحب کا رد کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تعبیر : ملک صاحب بیان کرتے تھے کہ جب ۱۹۰۰ء میں میں نے بیعت کی تو اس سے تھوڑا عرصہ بعد میں نے ایک عجیب رویا دیکھا کہ میں قادیان میں دوسری بار گیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ قادیان اس وقت کے مطابق ایک چھوٹا سا قصبہ نہیں بلکہ ایک بڑا شہر بنا ہوا ہے اور مسجد اقصیٰ کے پاس جو ہندوؤں کا کنواں ہے وہ نہیں ہے۔وہاں بڑا کھلا چوک ہے اور لوگوں کا ایک اجتماع ہے۔میں نے دریافت کیا کہ یہاں کیا ہورہا ہے۔تو ایک شخص نے کہا کہ ایک غیر احمدی نے حضرت صاحب کو چیلنج دیا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو میرے مقابلہ میں لٹو گھمائیں۔اگر آپ جیت گئے تو میں آپ کو سچا تسلیم کرلوں گا۔اس نے یہ بھی کہا کہ (حضرت) مرزا صاحب نے اس کے مقابل پر لٹ گھمایا اور آپ لٹو گھمانے میں اس سے جیت گئے۔مجھے تعجب ہوا کہ گجا دعویٰ مسیح موعود اور گجا لٹو گھمانا۔چنانچہ میں بھی بھیٹر کو چیرتا ہوا آگے بڑھا تا کہ دیکھوں کہ کیا واقعی حضرت صاحب لٹو گھماتے ہیں۔میرے اس اجتماع میں داخل ہوتے ہی ایک شخص مجمع میں سے یہ کہتے ہوئے حلقہ کے اندر گیا کہ اودے والا لاٹو جت لیا سی۔آکھاں میرے نال چھڑے۔یعنی اس کا لٹو ہی تم نے جیت لیا تھا آ میرے مقابلہ میں لٹ گھما کر دیکھ۔اس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ بھی آجائیں۔چنانچہ اس شخص نے تو اپنے لٹو پر الٹی جالی لپیٹی اور حضرت صاحب نے سیدھی (اس طرح اس کھیل میں مبتدی کرتے ہیں ) اور ہر دو نے لٹو چھوڑ دیئے۔اس نے تو راؤنڈ بال (Round Ball) کی طرح زور سے لٹو چھوڑا۔اور حضرت صاحب نے انڈر بال Under Ball) کی طرح بالکل آہستہ سے اپنا لٹو چھوڑا۔اس کا لٹو بہت زور سے گھوم رہا تھا اور حضرت صاحب والے کی رفتار بالکل ست تھی۔بظاہر کوئی مقابلہ نہ تھا۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کا لٹولڑ کھڑا کر گرنے کے قریب ہوا اور دوسراز ور پر تھا۔اتنے میں حضرت صاحب اس کے لٹو پر جھکے اور اس کو تین پھونکیں ماریں جن سے وہ لٹ ہلکا ہو کر بالکل گر گیا۔اور حضور کا چلتا رہا۔حضور نے اس پر دونوں لٹو اُٹھا کر اپنی جیبوں میں ڈال لئے۔مجھے یہ خواب دیکھ کر شرم سی آئی کہ یہ تو بچوں کی سی باتیں ہیں، حضور سے ان کو کیا نسبت؟ یہ میرے ہی خیال ہیں۔میں نے اس کا ذکر اپنے دوست صوفی غلام محمد صاحب ( والد صوفی عبدالرحمن صاحب۔صوفی عبدالرحیم صاحب ملازم ریلوے وصوفی غلام اللہ صاحب) سے کیا تو انہوں نے