اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 126 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 126

124 لئے تلونڈی جھنگلاں تشریف لے گئے۔واپسی پر حضور نے یہ پسند نہ فرمایا کہ راستہ میں ان کا ایک خادم رہتا ہو اور حضور اُسے اپنی تشریف آوری سے نہ نواز ہیں۔چنانچہ حضور موضع لوہ چپ میں منشی صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔منشی صاحب کے اہل بیت بیان کرتے تھے کہ حضور کی تشریف آوری کا علم نہ تھا۔منشی صاحب گھر پر موجود نہ تھے۔میں نے حضور کو کچھ نذرانہ پیش کرنا چاہا لیکن اتفاقاً گھر میں کوئی نقدی موجود نہ تھی۔میں نے گوارا نہ کیا کہ حضور اپنے خادم کے گھر تشریف لائیں اور وہ اپنی محبت اور اخلاص کا ثبوت نہ دے۔ہمارے گھر میں چاندی کے زیور اور چیزیں موجود تھیں میں نے اُن میں سے ایک چیز چاندی کی حضور کے پیش کر دی اور حضور نے اُسے قبول فرمالیا۔حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ہا والدہ چوہدری ظہور احمد صاحب کو جلدی جلدی قادیان آنے کی تاکید فرماتیں۔چنانچہ آپ اس کی تعمیل کرتیں۔جب قادیان جاتیں حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ھابڑی محبت اور شفقت سے گلے لگا کر ملتیں۔ان کے قیام و طعام کا انتظام بھی الدار میں ہی ہوتا۔آپ بیان کرتی تھیں کہ ایک دفعہ میں قادیان گئی ہوئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صحن میں ایک چار پائی پر بیٹھے تصنیف میں مصروف تھے۔میرا بیٹا نثار احمد اس وقت بالکل چھوٹا تھا اور پاس ہی فرش پر کھیل رہا تھا۔اسی اثناء میں حضور کے لئے وہیں کھانا لایا گیا۔حضور نے نہایت شفقت سے اُسے بلا کر اپنے پاس بٹھالیا اور اپنے ہاتھ سے اپنے کھانے میں سے اُسے بھی کھانا دیا۔آپ کا یہ طریق تھا کہ کچھ گھی صاف تیار کر کے اُسے مٹی کے برتن میں ڈال کر حضرت اقدس کے لئے بطور تحفہ لے جاتیں اور حضرت ام المومنین کے حضور پیش کر دیتیں۔اسی طرح کبھی مرغیاں اور بادام پستہ وغیرہ ڈالا ہوا گر بھی لے جاتیں۔حضور اُسے بڑی خوشی سے قبول فرماتے۔قیمت کے لحاظ سے یہ چیزیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں، لیکن جس اخلاص اور محبت سے ان کا اہتمام کیا جاتا اس کا اندازہ ہر شخص نہیں کر سکتا۔حضرت اماں جان کی طرف سے شادی میں شرکت کیلئے دعوت : حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ سلمھا اللہ تعالیٰ کی شادی کے موقعہ پر حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاءھانے حجام کو (جیسا کہ پہلے شادیوں کے مواقع پر دستور ہوتا تھا۔) دعوت نامہ دیگر والدہ چوہدری ظہور احمد صاحب کے پاس بھجوایا کہ بچوں سمیت شادی میں شریک ہوں۔چنانچہ آپ کو اس شادی میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔خدمت خلق کا جذ بہ : آپ کے اندر خدمت خلق کا جذ بہ بھی بہت نمایاں تھا۔دیہات کی محتاج عورتوں اور غریب بچوں کی ہمیشہ امداد کرتی تھیں۔گھر میں ایک چھوٹا سا ہسپتال کھول رکھا تھا جس کی کل کائنات صرف چند دوائیں تھیں۔انہیں