اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 120 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 120

118 نے تمام لوگوں کے سامنے اسی وقت سختی سے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ میں ہرگز اس کی پروانہ کروں گا کہ آپ میرے افسر ہیں، اور کوئی ایسی گستاخی برداشت نہیں کروں گا۔آپ کی اس جرات کا یہ اثر ہو ا کہ اس افسر نے علی الاعلان ندامت کا اظہار کیا۔اور پھر کبھی سلسلہ کے خلاف ایسے نازیبا الفاظ نہ کہے۔یہ افسر اپنی آخری عمر تک احمدیت میں تو داخل نہ ہوئے، لیکن کبھی ان کے متعلق یہ شکایت پیدا نہ ہوئی کہ انہوں نے سلسلہ کے خلاف کوئی نازیبا الفاظ استعمال کئے ہوں۔بلا خوف لومة لائم حق بات کہہ دینا: دینی اور دنیا وی تمام معاملات میں جس بات کو آپ سچ خیال کرتے اسے بلا خوف و خطر پیش کر دیتے۔ایک دفعہ سر ہنری کر یک سابق گورنر پنجاب (متحدہ) جو اس وقت ضلع گورداسپور میں مہتم بندو بست تھے پڑتال اور معائنہ کے لئے آئے۔ایک زمین کے متعلق جو آپ کے حلقہ میں تھی کا غذات میں غلط اندراج چلا آرہا تھا۔مہتم صاحب نے پہلے اندراج کو قائم رکھا۔اس پر آپ نے انہیں بتایا کہ اس زمین کا اندراج درست نہیں، اس کی قسم غلط لکھی گئی ہے۔تحصیلدار اور دوسرے افسران اشاروں سے آپ کو منع کرنے لگے کہ کہیں مہتمم صاحب ناراض نہ ہو جا ئیں۔لیکن آپ نے جس بات کو حق سمجھا اس کا اظہار کر دیا۔مہتمم صاحب نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر آپ نے تیسری بار پورے زور سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔چنانچہ اس دفعہ مہتمم صاحب نے آپ کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ریکارڈ میں یہ نوٹ کر دیا کہ میں بڑی مشکل سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس زمین کی فلاں قسم ہے۔اس جرات کا ان پر بہت اچھا اثر ہوا۔اور اس ضلع سے جاتے وقت انہوں نے بغیر کسی درخواست کے منشی صاحب کوخوشنودی کا سرٹیفیکیٹ دیا۔آپ کے عزم و استقلال کی ایک مثال : آپ کے عزم اور استقلال کا اس امر سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو حقہ پینے کی بہت عادت تھی۔ایک دن قادیان آئے ہوئے تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خلافت کا ابتدائی زمانہ تھا۔حضور نے حلقہ کی مذمت بیان کی اس وقت سے عزم کرلیا کہ حقہ کبھی نہ پیوں گا۔اس کے بعد بھی حقہ کو ہاتھ نہ لگایا۔شروع میں بیار بھی ہو گئے کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ حقہ آہستہ آہستہ چھوڑیں۔لیکن آپ نے کہا کہ اب کبھی استعمال نہیں کروں گا۔اور پھر اس کے بعد کبھی استعمال نہ کیا بلکہ کئی لوگوں سے یہ عادت چھڑوائی۔