اصحاب احمد (جلد 1) — Page 102
101 کی اور آخری سانس تک بیماری کے دُکھ سے اس کی آنکھ میں آنسو نہ آیا۔اور ایسی سخت بیماری کے اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اس کی نیند کا بہت سا حصہ جاگنے میں گذرتا تھا اور کئی راتیں اس نے اپنی آنکھوں میں گزاری تھیں۔اس نے کبھی ناشکری نہ کی اور نہ کبھی کوئی لفظ مایوسی کا منہ سے نکالا۔میں بار ہا ساری ساری رات کھانسی اور بے آرامی میں دیکھتا تھا مگر جب کبھی میں اس کو پوچھتا تھا کہ بھائی کیا حالت ہے تو جواب دیتا تھا کہ الحمد للہ میں بہت اچھا ہوں۔اس بیماری کی حالت میں بھی اس نے کوئی نماز قضا نہ کی۔میں طبیب ہوں۔میں نے ہزار ہا بیمار دیکھے ہیں۔بیماری سے اکثر انسان ہراساں ہو جاتا ہے اور متعلقین تیمارداروں کو بیما کو تسلی و تشفی دینی پڑتی ہے۔مگر میں نے اُسے ایسا تسلی یافتہ بیمار پایا کہ ہمیشہ اپنے لواحقین و متعلقین کو تسلی دیتا۔اور اسکی نازک حالت کو دیکھ کر اگر کوئی رشتہ دار اپنی آنکھ سے آنسو بہاتا تو وہ بڑے مضبوط دل اور واثق یقین سے اس کو تسلی دیتا اور کہتا کہ خدا کے فضل سے مایوس نہ ہو میں تو اس کی رحمت سے نا امید نہیں ہوں۔تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاص اور ایمان کا نمونہ تھا۔حضرت مسیح موعود کو جس سے اس کو یہ دولت ملی تھی آخر وقت تک ہمیشہ یاد کرتا رہا۔اور اس کی اخیر ایام میں بڑی بھاری یہی آرزو تھی کہ حضرت مسیح موعود کی آخری قدم بوسی سے مشرف ہو اور مرنے کے وقت کلمہء شہادت اور کل لوازمات ایمان کا اپنی زبان سے اقرار کرنے کے بعد اس نے کہا کہ میرا حضرت مسیح موعود امام آخر الزمان پر ایمان ہے۔بس یہی اس کے آخری کلمات تھے اس کے بعد زبان بند ہوگئی۔اور حضرت مسیح موعود کا خط جن سے وہ کامل درجہ کا عشق رکھتا تھا اس کی عین نزع کی حالت میں پہنچا۔وہ خط اس وقت اس عزیز کو جو خدا تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بالکل تیار بیٹھا تھا، سنایا گیا۔اور وہ اس پیارے امام کے مبارک ہاتھوں کی تحریر جس کو کہ چومنے اور آنکھوں سے لگانے کی نہایت آرزو رکھتا تھا اس کے منہ اور آنکھوں سے لگا کر اس کے سینہ پر رکھ دیئے گئے۔اس کے بعد معا وہ پاک روح ہمارے پاس سے پرواز ہوگئی۔گویا کہ اس کو صرف اس خط کی انتظار تھی۔یہ ایک شخص تھا جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی زندگی انبیاء کے طریق پر تھی۔مروجہ علوم میں اُس نے بی۔اے تک تعلیم پائی تھی۔مگر دین اور خداشناسی میں وہ اس ۲۵ سالہ عمر میں اس مرتبہ کو