اصحاب احمد (جلد 1) — Page 101
100 ایک ہی وجہ تھی۔یعنی آج سے آٹھ نو سال پیشتر جبکہ مجھے داڑھی کا آغا ز شروع ہی ہوا تھا اور مرحوم ایوب بیگ مجھ سے بھی خورد سال تھا۔خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور مہربانی سے اور ہمارے والدین کے خوش طالع سے آخری وقت کے امام کے قدموں تک ہماری رسائی ہوئی۔اس برگزیدہ الہی نے غایت کرم اور کمال مہربانی سے ہم دونوں کو اپنے بچوں کی طرح اپنے کنار عاطفت میں لیا۔نہایت لطف کے ساتھ اس نور سے بہرہ ور کیا جو اس کے اپنے سینہ میں روشن تھا۔اور ہمیں اپنے زمرہ خدام میں شمولیت کا فخر بخشا۔اس مبارک پیوند کا یہ نتیجہ ہوا کہ صدق اور راستی سے محبت ہوگئی اور ہر ایک قسم کے جہل اور تاریکی سے نفرت ہوگئی اور دل جو ابھی کسی قسم کے بداثر سے متاثر نہ ہوئے تھے۔اس نیک صحبت سے فیض یاب ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کہ افضل البشر وختم الرسل ہیں اور ہر ایک خیر و خوبی کی جڑ ہیں، غایت درجہ کا اُنس ہو گیا اور کتاب اللہ سے خاص لگاؤ اور محبت ہوگئی اور حضرت مسیح موعود کی دعا سے خدا تعالیٰ کے خوف و خشیت نے دل میں جگہ لی۔ہمارا جسمانی باپ تو ایک تھا ہی، روحانی طور پر بھی ہم ایک ہی باپ کے فرزند ہو گئے۔اور ماسوا اس محبت کے تعلق کے قلوب کو ایک دوسرے سے کچھ ایسا لگاؤ تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں بھائی ایک دوسرے کیلئے یک جان دو قالب تھے جبکہ میرے اور اس عزیز کے ایسے تعلقات تھے تو ایسے آرام قلب اور راحت جان شفیق کے گذر جانے سے ممکن تھا کہ عام دنیا داروں کی طرح میں بھی اندوہ و غم و کرب میں مبتلا ہو کر فراق میں ہلاک ہو جاتا۔مگر تسلی دینے والی ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ اس عزیز کا خاتمہ بالخیر ہوا۔جو کہ اس امام زمان کے ایک خواب سے قریب چھ ماہ پیشتر معلوم ہو چکا تھا۔یہ سعید نوجوان اپنے رُشد اور نیک بختی اور طہارت میں اسلام کے اس برگزیدہ سلسلہ میں ایک نمونہ تھا اور جو صبر اور استقلال اس نے اپنے اس ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ کی بیماری میں دکھایا۔اس کی اس زمانہ میں بہت ہی کم نظیر ملتی ہے۔یعنی اس تمام عرصہ میں ایک لحظہ بھر کیلئے بھی اس کے ایمان اور استقلال کو جنبش نہیں آئی اور وہ اخیر وقت تک اس بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر ایسا شا کر تھا۔جیسے کہ کوئی دنیا دار کسی دنیاوی نعمت پانے پر خوشی اور انبساط سے شکر کا لفظ منہ پر لاتا ہے۔تمام بیماری میں اس اسم بامسمی ایوب نے اُف تک نہ