اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 96 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 96

95 میں جب کہ حضوڑا مسجد مبارک میں نماز کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔پیش کیا گیا تا حضور اس کو ملاحظہ فرمالیں۔وہ مضمون کپتان ڈگلس کی عدالت میں پیش ہونا تھا۔اس مضمون میں ایک جگہ ل لکھنے سے رہ گیا۔حضرت اقدس علیہ السلام خود اپنے قلم سے ل اس جگہ لکھنے لگے۔اس وقت مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم جلدی سے بولے کہ حضور ٹھہر جائیں، اس کو خوشخط لکھوالیا جائے۔چونکہ حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریر شکستہ ہوتی تھی ایوب بیگ مرحوم نے خیال کیا کہ حضور ل کو بھی شکستہ ہی لکھ دیں گے۔مگر چونکہ وہ تحریر عدالت میں پیش ہوئی تھی۔اس لئے مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم نے چاہا کہ یہ ل باقی تحریر کی طرح خوشخط لکھا جائے مگر حضوڑ نہ رُکے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میں بھی خوشخط لکھ سکتا ہوں۔اور حضور نے ل لکھا۔وہ بطرز نستعلیق نہایت خوبصورت تھا۔خاکسار شیر علی عفی عنہ۔۱۴۴ تعلیم الاسلام مڈل ہائی سکول کی ہیڈ ماسٹری: 66 مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ : آریہ مڈل سکول کے مدرسوں کے تعصب اور تنگ نظری سے تنگ آ کر جب ہمارے بچوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ ہر وقت گندے اعتراضات دلآزار حرکات اور توہین آمیز سلوک نه برداشت کر سکے تو حضرت اقدس کے حضور شکایت پہنچی۔حضور نے تو کلاً علی اللہ دعا واستخارہ اور مشورہ کے بعد اپنا سکول کھولے جانے کا فیصلہ فرما دیا اور اس کے واسطے ایک اعلان بھی شائع فرمایا۔۔۔سکول کے باقاعدہ کھلنے سے قبل ہی میں نے ادھر ادھر سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھیر سنبھال کر بٹھانا اور پڑھانا شروع کر دیا تھا۔اور جو جس لائق ہوتا اس کی لیاقت کے مطابق ہی ( دوسری یا تیسری جماعت ) اس کو پڑھانا شروع کر دیتا اور اس طرح گویا اپنے سکول کا سب سے پہلا استاد یا ماسٹر میں بنا۔سکول نے باقاعدگی اختیار کئی بڑے لڑکے بھی پڑھنے لگے تو بڑے بڑے ماسٹر بھی آگئے۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے سکول ترقی کے مدارج طے کرنے لگا اور بڑھتا گیا۔‘۱۵ قادیان میں اپنے مدرسہ کے قیام کے اول محرک حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اسی الاول) المسیح رضی اللہ عنہ ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قیام کو سلسلہ کے واسطے ضروری دیکھ کر ۵ ستمبر