اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 88 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 88

87 میں لاہور میں مخالفت کا زور تھا۔بیہودہ لوگ گلی کوچوں میں گندہ دہانی کرتے اور جھوٹے لغو اور بے ہودہ قصے حضرت اقدس کے خلاف مشہور کیا کرتے تھے۔اکثر لوگوں کا ہجوم حضور کے مکان کے گر درہتا تھا۔اور اندیشہ تھا کہ بدقماش لوگ مکان میں گھس کر حملہ نہ کر دیں۔بیعت کرنے والوں کو مخالفین تنگ کرنے کی کوشش کرتے تھے اس وجہ سے بیعت کا کئی دفعہ اظہار بھی نہیں کیا جاتا تھا۔چنانچہ مرزا ایوب بیگ صاحب اور آپ کے حقیقی بھائی مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ایک دوسرے سے خفیہ بیعت کی۔مرزا ایوب بیگ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں دو تین روز تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتا اور لوگوں کے ساتھ حضور کی گفتگو سنتا رہا۔۵ فروری ۱۸۹۲ء کو اسلامیہ ہائی سکول سے کہ جہاں میں پڑھتا تھا، چار بجے بعد دو پہر واپس آیا۔تو حضرت کی قیام گاہ پر پہنچا۔وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔جس میں ایسا خشوع و خضوع اور حضور قلب میسر آیا کہ پہلے کبھی نہ آیا تھا۔طبیعت میں بے حد رقت تھی اور آنکھوں میں آنسو۔حضرت اقدس بالا خانہ میں تشریف لے جاچکے تھے۔میرا دل تڑپتا تھا کہ صادق و مرسل من اللہ کی فوراً بیعت کرلوں۔مجھے معلوم نہ تھا کہ کس طرح حضور کی خدمت میں پہنچوں۔دل قابو میں نہ تھا۔یہاں تک کہ میری بلند آواز سے رونے تک نوبت پہنچی اور ہچکی بندھ گئی۔ایک ہم جماعت بھی میرے ساتھ تھا۔دروازہ کھٹکھٹانے پر مرزا محمد اسماعیل صاحب نیچے اُترے۔* تو اُن سے کہا کہ ہم دونوں طالب علم اس وقت حضور سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے نہایت مہربانی و شفقت سے دونوں کو اپنے پاس بالا خانہ میں بلا لیا۔میں نے عرض کی کہ ہم دونوں بیعت کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے ہماری درخواست منظور فرمالی۔پہلے میرے ہم جماعت کو بیعت کے لئے اندر بلا یا ان دنوں حضور ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ بیعت لیا کرتے تھے۔اور دس شرائط بیعت میں سے ہر ایک کی نسبت تفصیل وار بیان کر کے اس پر کار بند رہنے کے لئے اقرار لیتے تھے جس وقت میرا ہم جماعت اندر بیعت کر رہا تھا۔میرے دل میں تضرع اور خشیت اللہ نے اور بھی زور کیا۔اس وقت تین چار دفعہ میری آنکھوں کے سامنے بجلی کی طرح ایک نور کی چمک نظر آئی۔پھر حضور نے مجھے بیعت کے لئے اپنے پاس بلا لیا۔اور پھر جب مجھے حضور نے دیکھا تو فرمایا کہ آپ کے چہرہ سے رشد اور سعادت ٹپکتی ہے۔پھر پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔اور مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں کہ مرزا محمد اسمعیل صاحب خادم حضرت اقدس جو بعد میں پریس مین کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ان لوگوں کی اولاد میں سے ہیں جو حضوڑ کے آباؤ اجداد کے ہمراہ سمرقند سے وارد ہندوستان ہو کر قادیان میں آباد ہوئے۔آپ کو حضور کی خدمت کا بہت موقعہ ملا۔آپ فسادات ۱۹۴۷ء میں قادیان میں فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔(مؤلف)