اصحاب احمد (جلد 1) — Page 38
38 صاحبزادہ صاحب کی وفات : صاحبزادہ صاحب کی وفات کے متعلق تقدیر مبرم تھی۔چنانچہ آپ ۱۶ستمبر ۱۹۰۷ء کو شادی کے چند دن بعد داغ مفارقت دے گئے۔اس موقعہ پر سلسلہ کے اخبارات نے لکھا: ” إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ * خُدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔" کیا ہی مبارک تھا وہ وجود جس کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان تھا اور اس کی وفات بھی ایک شاندار نشان ہوا۔مبارک احمد کی مبارک رُوح اسی لئے دنیا میں آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے رسول کی صداقت کے واسطے نشانات قائم کر کے جلد اپنے خدا کے ساتھ جاملے۔اگست گذشتہ میں میاں مبارک احمد تپ شدید سے سخت بیمار ہو گیا تھا یہاں تک کہ بار بار غشی تک نوبت پہنچتی تھی اور تپ ایک سو پانچ درجہ تک پہنچ گیا سر مارنے کی ایسی حالت تھی کہ سرسام کا خوف ہو کر نومیدی کی حالت ہو چکی تھی ایسی حالت میں الہام ہوا کہ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا اور مبارک احمد تندرست ہو کر باغ سیر کرنے کے لئے چلا گیا اور پھر چند روز بخار ره کر۴ استمبر ۱۹۰۷ء کو ٹوٹ گیا یہ الہام اخبار بدر مورخه ۲۹ اگست ۱۹۰۶ء میں قبل از وقت چھپ گیا تھا۔چنانچہ اس کے مطابق ۳۰ اگست ۱۹۰۶ء کو بخار بالکل ٹوٹ گیا تھا اور لڑکا بالکل صحت یاب ہو گیا' اور لڑکے نے خود کہا کہ میں بالکل تندرست ہوں اور کھیلنا شروع کیا۔اس بیماری سے تو شفاء ہوئی لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا ایک پرانا فرمودہ پورا ہونا تھا اس واسطے ایک دوسرے مرض سے مبارک احمد پھر بیمار ہوا کیونکہ ضرور تھا کہ خدا کے منہ کی باتیں ساری پوری ہو جائیں۔”مبارک احمد ۶ استمبر یا روز دوشنبہ کی صبح کو اپنے خدا سے جا ملا۔اور مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون یہ ایک خوردسال بچہ تھا جو چھوٹی عمر میں فوت خاکسار کے استفسار پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میضہم نے مجھے تحریر فرمایا کہ ” جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے مبارک احمد مرحوم کی شادی حضرت مسیح موعود کے مکان کے اندر اس صحن میں ہوئی تھی جو اس وقت ام ناصر احمد صاحب کا صحن کہلاتا ہے اور چند دن بعد اس صحن میں مبارک احمد کی وفات ہوئی۔یہ مین حضرت اماں جان والے صحن کے شمال مغربی کونے میں دو تین سیڑھیاں اونچا ہو کر واقع ہے“۔(مؤلف)