اصحاب احمد (جلد 1) — Page 259
258 رہے تھے۔ان میں سے کتے نے عبدالکریم صاحب مرحوم پر حملہ کر کے زخمی کر دیا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فداہ امی وابی کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو حضور نے منتظمین کے ذریعہ علاج کے لئے عبدالکریم صاحب کو سولی بھجوا دیا۔ان کو سگ دیوانہ سے معمولی خراش آئی تھی۔اس لئے جب دوسروں کو علاج کے لئے کسولی روانہ کیا گیا تو ان کے متعلق افسران متعلقہ میں اختلاف ہوا۔بعض کہتے تھے کہ کتے نے کاٹا نہیں نامعلوم خراش آئی ہے اس لئے بھیجنے کی ضرورت نہیں۔لیکن انہیں احتیاطاً بھیج دیا گیا۔علاج ہو جانے کے بعد عبدالکریم صاحب کامل صحت یاب ہونے پر قادیان واپس آگئے اور ہمارے ساتھ بورڈنگ میں مثل سابق رہنے لگے۔مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان فرماتے ہیں کہ ایک روز ظہر یا عصر کے لئے میں، عبدالکریم صاحب اور دیگر بورڈران واٹر ہاؤس میں وضو کر رہے تھے تو عبدالکریم اچانک پانی سے ڈر کر چونک پڑے اور کہنے لگے کہ مجھے پانی سے ڈر لگتا ہے۔اس کی اطلاع سپرنٹنڈنٹ صاحب بورڈنگ کی وساطت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پہنچائی گئی تو حضور نے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی شیر علی صاحب کو فرمایا کہ وہ تار دے کر کسولی کے ڈاکٹروں سے دریافت کریں اور عبدالکریم صاحب کو دوسروں سے علیحدہ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ انہیں سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کے چوبارہ پر خاکسار کے ماموں برکت علی صاحب ( برادر حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ) کی زیر نگرانی رکھا گیا۔وہ ان دنوں بورڈنگ میں بطور خادم کام کرتے تھے۔ہم مرض کی وحشت اور خوف کی وجہ سے عبدالکریم کو دور سے ہی دیکھتے تھے اور قریب نہیں جاتے تھے۔کسولی سے مایوس کن جواب آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی دوا تجویز فرمائی جس سے انہیں کثرت سے پاخانے آئے جس سے وہ نڈھال ہو کر بے ہوشی کی سی حالت میں رہتے تھے۔دو تین روز بعد جب جسم میں کچھ توانائی آئی تو معلوم ہوا کہ ان کی مرض کافور ہو چکی ہے۔و خواجہ عبدالرحمن صاحب فرماتے ہیں: مکرم معظم ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے ( سابق سردار مہر سنگھ ) نے ہمیں عبدالکریم کے پاس جانے سے منع فرمایا۔مبادا کہ کسی کو ان سے نقصان پہنچے۔جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اس بات کی اطلاع کی گئی تو سب سے پہلے حضور نے معالجین کو حکم دیا کہ کوئی مہلک دوائی نہ دی جائے۔کیونکہ جب ہلکاؤ کی بیماری ہو جاتی ہے تو چونکہ یہ مرض لا علاج ہے لوگوں کو نیز مریض کو تکلیف اور دُکھ سے بچانے کے لئے ڈاکٹر ایسا کرتے ہیں۔پھر عبدالکریم صاحب کو علیحدہ رکھنے کے لئے تجویز کی گئی۔مکرم