اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 249 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 249

248 اور وہاں آپ ۳ - ۴ گھنٹہ تک رہے۔وہاں سے ڈاکٹر غلام احمد صاحب کے علاج کی سہولت کی خاطر رباط افضل الدولہ میں منتقل ہوئے۔دونوں رباطیں مسجد نبوی کے بالکل قریب ہیں۔جب رباط افضل الدولہ کو جارہے تھے۔سیٹھ صاحب چار پائی پر لیٹے لیٹے روضہ مکرمہ کو سلام کرتے دعا پڑھتے درود پڑھتے جاتے۔مدینہ منورہ کے ساکنین مرد عورتیں اللہ شافی اللہ شافی کہتے کوئی کہتا ہندی حاجی ہندی حاجی۔اللہ شافی مولا شافی، غرض عجیب نظارہ تھا۔سیٹھ صاحب کا علاج علاوہ ڈاکٹر غلام احمد صاحب ساکن مدینہ منورہ ایک حکیم صاحب ساکن اجمیر شریف نے بھی جن کا نام شفاء الملک تھا آخری تین دن جمعہ۔ہفتہ۔اتوار کیا۔سیٹھ صاحب کو جگر کی خرابی کا مرض تھا۔اُس کے علاوہ بخار کا سلسلہ تھا۔آخری تین دن تو آپ نے بالکل سکوت میں گزارے۔جمعرات کو اچھے ہو گئے تھے۔کپڑے تبدیل کئے نئے کپڑے پہنائے۔اچھی باتیں کرتے رہے۔لیکن جمعہ سے بالکل فریش ہو گئے۔حکیم خسر و شاه نظامی صاحب ابن حکیم نابینا صاحب حیدر آباد نے بھی جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف ہیں۔جمعہ کے روز چار بجے سیٹھ صاحب کو دیکھ کر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ زیادہ سے زیادہ پیر تک زندہ رہ سکیں گے۔کیونکہ ایک ہاتھ کی نبض پوری طرح کام نہیں کرتی۔انہوں نے علاج نہ کیا۔اسی طرح سلسلہ کے شدید مخالف ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب مونگھیری ساکن مدینہ منورہ نے بھی دیکھا لیکن انہوں نے بھی علاج نہ کیا۔جب مدینہ منورہ میں شدید بیمار ہوئے۔آخری گھڑیوں اور آخری ایام کا سلسلہ چل رہا تھا۔میں۔۔۔ذکر کیا کہ آپ کی بیماری سخت ہوگئی ہے بچوں کو تار دوں فرمانے لگے کہ مت دو بچے گھبرا جائیں گے۔البتہ حضور کو دعا کا تار دو۔چنانچہ میں نے مدینہ منورہ سے حضور کی خدمت میں سیٹھ صاحب کی شدید علالت کا ذکر کر کے دعا کا تار دیا۔نے آپ بیماری کی حالت میں فرمایا کرتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیر یا جمعہ کو جاؤں گا۔چنانچہ جمعہ کو ہی آپ کی زیادہ سخت حالت بیماری کی تھی۔ڈاکٹر نے مغرب کے وقت کہا کہ اب انہیں بلغم کی رکاوٹ کافی ہو رہی ہے۔اس لئے شاید رات یہ زندہ نہ رہ سکیں۔لیکن حکیم شفاء الملک اجمیری نے بعض دوائیں پلائیں اور روغن سینہ کی مالش کے لئے دیا۔اس سے آپ کو نیند آ گئی۔ایک رات قبل ہی سے ڈاکٹر غلام احمد