اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 235 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 235

234 کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گو جماعت ہائے احمدیہ کے مشورے اور انکی تحریک پر ہی جاتا ہوں اور تبلیغ کا یہ کام ہے مگر میں اپنی ذات کا بوجھ جماعت پر نہ ڈالوں اور اس کے لئے میں نے اپنی ایک جائیداد کو فروخت کرنے کے لئے کہا ہے مگر چونکہ اس کے فروخت ہونے میں کچھ دیر لگے گی۔میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ چھ سات دوستوں سے کچھ رقم بطور قرض لے لوں اور پھر اس کو ادا کر دوں۔آپ کو بھی اس خط کے ذریعہ سے تحریک کرتا ہوں کہ اگر آپ بھی ایک حصہ رقم کا بطور قرض دے سکیں تو ایک سال کے لئے جس قدر رقم بطور قرض دے سکیں مجھے بھیج دیں۔انشاء اللہ ایک سال تک واپس ادا کر دونگا۔کل خرچ کا اندازہ پانچ ہزار روپیہ کا ہے۔بعض اور دوستوں سے بھی میں نے تحریک کی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ قرض بھی آپ کے لئے موجب ثواب ہوگا۔خاکسار مرزا محمود احمد حضور کے ذیل کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ سیٹھ صاحب نے یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کر دی تھی : مکرمی سیٹھ صاحب السلام علیکم ! آپ کی طرف سے ایک ہزار روپیہ بطور قرض وصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔میں انشاء اللہ تعالیٰ قادیان سے بارہ کو روانہ ہونگا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چودہ کی شام کو بمبئی پہنچونگا۔وہاں صرف چند گھنٹے ٹھہرنے کے ملیں گے۔اس رقم کے متعلق حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور مکتوب درج ذیل ہے: خاکسار مرز امحمود احمد قادیان ۴ امتی ۱۹۲۴ء مکرمی سیٹھ صاحب السلام علیکم ! پچھلے سال میں نے آپ سے ایک ہزار روپیہ قرض۔لیا تھا۔اس سال بوجہ میری دوسری بیوی کے فوت ہو جانے کے جن کی وصیت اور دوسرے حقوق ادا کرنے پڑے اور بوجہ اس کے کہ مجھے سلسلہ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اور شادی