اصحاب احمد (جلد 1) — Page 234
233 صدقے یہ مقام دیکھ لیا۔ایک صاحب سید احمد صاحب کو اپنے ساتھ لا کر جناب سیٹھ صاحب موصوف نے حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کرائی۔جناب سیٹھ صاحب ایک سادگی پسند انسان ہیں اور بہت سادہ حالت میں رہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا اعلیٰ دماغ دیا ہے کہ اپنے تجارتی کام میں نہایت کامیاب انسان ہیں اور ہماری جماعت میں غالباً سب سے بڑے تاجر ہیں۔ان کے خرچ پر تمیں طالب علم مدرسہ احمد یہ میں تعلیم پارہے ہیں۔جن میں سے ایک نے جن کا نام فضل الرحمن ہے اس سال مولوی فاضل کا امتحان دیا ہے۔‘ 2 حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ سے انتہائی محبت : سیٹھ صاحب ہمیشہ فرماتے تھے کہ مجھے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعائیں لگی ہیں۔اور سب سے پہلے اور میں سب سے زیادہ حضور کی صحت اور روحانی ترقی کے لئے دعا کرتا ہوں۔حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتے رہتے اور دوسروں کو بھی تاکید کرتے رہتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ جب قادیان سے اخبار آتا یا پنجاب سے کوئی احمدی آتا تو حضور کی خیریت دریافت کرتے۔حضور کو کثرت سے یاد کرتے۔بوقت ملاقات زیادہ گفتگو نہ کرتے بلکہ خیریت پوچھ کر دعا کے لئے عرض کر کے خاموش ہو جاتے۔حضور بھی خاص محبین کی طرح آپ کو سلسلہ کی خدمات کے لئے خاص مواقع پر تحریک فرماتے۔حضور نے ۱۹۲۴ء میں جماعت کی تحریک اور مشورہ پر سفر یورپ اختیار فرمایا لیکن اس کا خرچ خود برداشت کیا۔اس بارہ میں حضور نے ایک مکتوب سیٹھ صاحب کے نام تحریر فرمایا۔جو سیٹھ صاحب کو ۲ از یعقد ۱۳۴۲۰ھ کو موصول ہوا۔درج ذیل ہے: مکرمی سیٹھ صاحب السلام علیکم۔آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ ولایت میں ایک مذہبی کا نفرنس ہو نیوالی ہے اس موقع پر مجھے بھی انہوں نے دعوت دی ہے۔میں نے فیصلہ سے پیشتر تمام احمدی جماعتوں سے مشورہ لیا تھا اور سب جماعتوں نے بہ شمولیت حیدر آباد مجھے جانے کا مشورہ دیا ہے۔سوائے گیارہ جماعتوں کے جو مخالف ہیں۔میں نے بھی مذہبی کانفرنس کی خاطر نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مغربی ممالک کی تبلیغ کا تمام انتظام بغیر خود جا کر وہاں مشورہ کرنے کے نہیں ہوگا یہ فیصلہ کیا ہے کہ خود وہاں جا کر حالات کا مطالعہ کروں اور تین چار ماہ کے دورے سے آئندہ کی تبلیغ کے متعلق پورے مشورے سے ایک مکمل سکیم تجویز کروں۔میں نے اپنی پہلی عادت