اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 219 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 219

218 صاحب درویش کا بیان ہے کہ سیٹھ صاحب کو کاروبار میں اتنا شدید نقصان پہنچا تھا کہ بالعموم ایسے صدمہ کی برداشت نہ لا کر تا جر خود کشی کر لیا کرتے ہیں۔یا حرکت قلب بند ہو کر موت واقع ہو جاتی ہے۔لیکن میں نے آپ کو ان ایام میں دیکھا کہ آپ پر اس نقصان عظیم کا کوئی خاص اثر معلوم نہ ہوتا تھا۔سیٹھ صاحب نے ثابت قدمی کا شیوہ اختیار کئے رکھا۔اور ہمیشہ فرماتے تھے کہ ہماری کچھ غلطیاں ہمارے نامہ اعمال میں ہونگی۔اس لئے یہ آزمائش پیش آئی۔آپ آستانہ الہی پر جھکے رہے اور بمطابق وعدہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُو رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلْئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔آپ پر ملائکہ کا نزول ہوا۔بشارات ملیں اور آپ کی طبیعت میں ایک سکون اور اطمینان ودیعت ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو صبر واستقامت کی وہ طاقت عطا ہوئی کہ جس کے سامنے مصائب کے پہاڑ ٹل جائیں۔فرماتے تھے کہ جب آپ رنگون تجارت کے لئے چلے گئے اور یکدم تجارت میں لاکھوں روپے کا خسارہ ہوا۔گھر کے لوگ اور ملازمین سارے پریشان تھے۔ان دنوں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی مالیت کے بارہ دیوانی مقدمات آپ پر دائر ہو چکے تھے گھر سے فوری واپسی کے لئے تار آیا۔آپ دعائیں کرتے ہوئے واپس لوٹے۔جب جہاز مدراس کی گودی میں لنگر ڈال رہا تھا۔تو آپ کی زبان پر بار بار لا غُلِبَنَّ لَا مُرِى يَا لَا غُلِبَنَّ عَلَىٰ امری کے الفاظ جاری ہوئے۔چنانچہ آپ کو کامل اطمینان ہو گیا۔اور جب آپ کے بیٹے شیخ عبد الحئی صاحب نے پریشان کن حالات سنائے تو آپ نے اپنا الہام سنا کر تسلی دی۔مخالفین سلسلہ نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ چونکہ سیٹھ صاحب نے جھوٹے سلسلہ کی خاطر مال و دولت خرچ کی۔اس لئے ان کا گھر برباد ہو گیا۔شیخ حسن اب ختم ہوا۔اب اس کا زندہ رہنا مشکل ہے۔چنانچہ ایک دفعہ جمعہ کے بعد آپ نے مسجد احمد یہ یاد گیر میں کہا کہ میں دوستوں کو کچھ سنانا چاہتا ہوں۔لوگ میرے خسارہ کو دیکھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔میں مسجد میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بار بار بتایا ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا۔جب تک کہ تجارت کی حالت پہلے جیسی نہ ہو جائے۔آپ کو اللہ تعالیٰ پر حد درجہ یقین تھا۔فرماتے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کیا ہی عمدہ ہے کہ الدُّنْيا جِيفَةٌ وَطَالِبُهَا كِلاب کہ دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کہتے ہیں۔دنیا دار مال و منال اور حشمت و جاہ کے طالب ان کے حصول کے لئے جائز و ناجائز کی تمیز روا نہیں رکھتے اور اس وجہ سے کتے سے مشابہت رکھتے ہیں۔معمولی فائدہ کی خاطر جھوٹ بول لینے اور معاہدہ تو ڑ دینے کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھتے ہیں۔اس ابتلاء میں آپ کے یہ اوصاف بھی اُجاگر ہوئے کہ باوجود وکلاء کی تلقین کے آپ نے جھوٹ بولنے سے انکار