اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 20 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 20

20 گیا جو انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۲ اور ۱۸۳ اور اس کے ضمیمہ کے صفحہ ۵۸ میں درج کر کے شائع کیا گیا تھا اور لڑکا اب تک پیدا نہیں ہوا۔اس لئے پھر میرے دل میں دعا کی خواہش پیدا ہوئی۔گومیں جانتا ہوں کہ نا منصف دشمن کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔اگر مثلاً کوئی لڑکا الہام کے بعد دو تین مہینے میں ہی پیدا ہو جائے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ پیشگوئی کرنے والا علم طبابت میں بھی دسترس کامل رکھتا ہے۔لہذا اس نے طبیبوں کی قرار داده علامتوں کے ذریعہ سے معلوم کر لیا ہوگا کہ لڑکا ہی پیدا ہو گا۔کیونکہ حمل کے دن تھے۔اور اگر مثلاً کسی پسر کے پیدا ہونے کی پیشگوئی تین چار برس پہلے اس کی پیدائش سے کی جائے تو پھر کہتے ہیں کہ اس دور دراز مدت تک خواہ نخواہ کوئی لڑکا ہونا ہی تھا۔تھوڑی مدت کیوں نہیں رکھی۔حالانکہ یہ خیال بھی سراسر جھوٹ ہے۔لڑکا خدا کی عطا ہے۔اپنا دخل اور اختیار نہیں اور اس جگہ ایک بادشاہ کو بھی دعوی نہیں پہنچتا کہ اتنی مدت تک ضرور لڑکا ہی پیدا ہو جائے گا۔بلکہ اس قدر بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت تک آپ ہی زندہ رہے گا اور یا یہ کہ بیوی زندہ رہے گی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں کی ہمیشہ کی وباؤں نے جو طاعون اور ہیضہ ہے لوگوں کی ایسی کمر توڑ دی ہے کہ کوئی ایک دن کے لئے بھی اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔علاوہ اس کے جو شخص تحدی کے طور پر ایسی پیشگوئی اپنے دعوی کی تائید میں شائع کرتا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا کی غیرت کا ضرور یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ ابدا ایسی مرادوں سے اس کو محروم رکھے۔کیونکہ اس کا ابتر اور بے فرزند مرنا اس سے بہتر ہے کہ لوگ اس کی ایسی مکاریوں سے دھو کہ کھائیں اور گمراہ ہوں اور یہی عادت اللہ ہے جس کو ہمارے اہل سنت علماء نے بھی اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے۔الغرض میں نے بار باران نکتہ چینیوں کوسُن کر کہ چوتھا لڑ کا پیدا ہونے میں دیر ہوگئی ہے جناب الہی میں تضرع کے ہاتھ اُٹھائے اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔میری دُعا اور میری متواتر توجہ کی وجہ سے ۱۳ / اپریل ۱۸۹۹ء کو یہ الہام ہوا۔اصْبِرُ مَلِيًّا سَا هَبُ لَكَ غُلَا مَا زَكِيًّا۔یعنی کچھ تھوڑا عرصہ صبر کر میں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کروں گا اور یہ پنجشنبہ کا دن تھا اور ذی الحجم ۱۳۱۶ھ کی دوسری تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔