اصحاب احمد (جلد 1) — Page 202
201 تہجد وغیرہ عبادت کا التزام: آپ نماز تہجد بڑے التزام سے ادا فرماتے۔آدھی رات کے قریب اُٹھتے ہر وضو کے ساتھ مسواک کرتے۔لمبے عرصہ تک دعا کرتے۔بعض دفعہ اونچی آواز سے بھی دعا کرتے۔سجدہ بھی لمبا کیا کرتے تھے اور روتے رہتے۔بچوں کو فرماتے معلوم نہیں تم اتنی جلدی کس طرح نماز پڑھ لیتے ہو۔مگر جب خود امام ہوتے تو جیسا کہ ارشاد نبوی ہے مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔نماز با جماعت کا خاص التزام کیا کرتے۔فرمایا کرتے مجھے صرف ایک نماز یاد ہے جو میں باجماعت نہیں پڑھ سکا (سوائے مجبوری کے ) وہ بھی مسجد سے ضروری حاجت کے لئے واپس آنا پڑا تھا۔* آپ صاحب الہام تھے : آپ دعائیں کثرت سے کیا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی دعا کی طرف توجہ دلاتے رہتے، گھر میں اپنی خوا ہیں اور الہام سنایا کرتے تھے۔جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم اور مکرم قاضی محمدعبداللہ صاحب ( سابق مبلغ امریکہ حال ناظر ضیافت ربوہ) نے (۱۹۱۴ء میں ) بی۔اے کا امتحان دیا تو آپ کو بھی دعا کے لئے کہا۔دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص سامنے آیا اور ہاتھ میں ایک گول شیشہ جیسے گھڑی کا ہوتا ہے پکڑا ہوا ہے اور اس کے درمیان میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہے۔وہ شیشہ دکھا کر کہتا ہے کہ میاں کا پاس ہونا تو اتنا مشکل ہے جتنا اس سوراخ سے گذرنا۔مگر ہم میاں کو پاس کر دینگے۔اور قاضی صاحب کے متعلق پھر دیکھا جائے گا۔دوسرے دن جب حضرت صاحبزادہ صاحب کو یہ خواب سنائی تو آپ نے فرمایا کہ میرا ایک پرچہ اتنا خراب ہو گیا ہے کہ کوئی عقلمند مجھے اس میں پاس نہیں کر سکتا۔جب نتیجہ نکلا تو صاحبزادہ صاحب پاس اور قاضی صاحب کمپارٹمنٹ میں آگئے۔** ایک دفعہ آپ کے ماموں چوہدری محمد بخش صاحب پر گورنمنٹ نے ایک مقدمہ دائر کر دیا۔اس میں اُن کے ساتھ ایک ہند وسیٹھ بھی شریک تھا۔مقدمہ بڑا سنگین تھا، ڈپٹی کمشنر خلاف تھا اور سزا دلوانا چاہتا تھا۔ان کے لئے دعا کی۔آواز آئی کہ ہم اس کو اپنی رحمت میں لے لینگے۔ان کے گھر منشی صاحب نے کہلا بھیجا کہ مجھے خدا نے کہا ہے کہ آپ بری ہو جائیں گے اور دوسرے کئی لوگوں کو بھی اپنا الہام سنایا۔جب فیصلہ سنایا گیا تو ہند وسیٹھ کو چھ ہزار روپیہ جرمانہ اور چھ سال کی قید اور چوہدری صاحب کو چھ ماہ قید اور چھ سوروپیہ جرمانہ کی سزا ہوگئی۔جب منشی صاحب مکرم ملک غلام فرید صاحب کے بیان تک سب بیان مکرم ڈاکٹر محمد عبد الرشید صاحب کی طرف سے ہے۔(مؤلف) ** حضرت صاحبزادہ صاحب کا اس بارہ میں مکتوب آخر میں درج ہے۔(مؤلف) *