اصحاب احمد (جلد 1) — Page 188
187 بیعت کے بعد منشی صاحب نے عرض کیا کہ صبح واپسی کا ارادہ ہے۔ان دنوں سیالکوٹ میں سخت ہیضہ شروع تھا۔حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس جگہ وبا پھیلی ہوئی ہو وہاں نہیں جانا چاہئے۔منشی صاحب نے کہا کہ تعطیلات ختم ہو رہی ہیں۔تو حضور نے فرمایا کہ یہ مجبوری ہے۔چنانچہ منشی صاحب بیعت کے اگلے روز سیالکوٹ چلے گئے۔جب مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک پلید نے حضوڑ اور خدام کو گالیاں دی تھیں اس واقعہ کے ضمن میں منشی صاحب بیان کرتے تھے کہ اس وقت میں بالکل حضور کے ساتھ بائیں طرف تھالے نیز صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات کے وقت بھی (جو ۶ استمبر ۱۹۰۷ء کو ہوئی ) منشی صاحب قادیان میں تھے۔چنانچہ آپ کی روایت اسی کتاب میں صاحبزادہ صاحب کے حالات میں درج ہو چکی ہے۔بیعت کے بعد انقلاب: پہلے دل میں ہر وقت ایک بے کلی سی رہتی تھی۔بیعت کے بعد جاتی رہی۔اب جو تبد یلی ہوئی وہ اس امر سے ظاہر ہے کہ بیعت کرنے سے پہلے ایک دفعہ آپ نے اپنے بڑے بھائی سے کہا کہ بھائی غلام قادر !نماز پڑھا کرو۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو نماز پڑھ پڑھ کر کیا مل گیا جو مجھے تلقین کرتے ہو۔آپ نے بھی دل میں خیال کیا کہ بھائی سچ کہتا ہے مجھے بھی کچھ نہیں ملا۔اس لئے آپ چپ ہور ہے۔بلکہ بعد میں نماز بھی ترک کر دی۔جب آپ نے بیعت کر لی تو کچھ عرصہ کے بعد پھر کہا بھائی غلام قادر ! نماز پڑھا کرو۔انہوں نے جواب دیا اب پڑھا کروں گا کیونکہ میں اب محسوس کرتا ہوں کہ آپ کو کچھ مل گیا ہے۔یعنی بیعت سے پہلی اور بعد کی حالت میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں۔آپ ذکر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ بیعت کے بعد آوارہ مزاجی یکلخت کا فور ہو گئی۔* حضور کا سیالکوٹ میں ورود ۲۷/ اکتوبر ۱۹۰۴ء: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲۰ اگست ۱۹۰۴ء کو لاہور تشریف لے گئے سے منشی صاحب بیان کرتے تھے کہ جب ( ۳تمبر ۱۹۰۴ء کو ) حضور کا لیکچر لاہور میں منڈوے میں پڑھا گیا۔* حضور کی خدمت میں ** بیان ڈاکٹر محمد عبدالرشید صاحب۔(مؤلف) مضمون بعنوان ”اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب، طبع کروایا گیا تھا۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۲۹/۳۰ بابت ۳۰ اگست ۱۰ ستمبر ۱۹۰۴ء میں چھپ چکا ہے۔) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھ کر سنایا تھا۔حضور نے جو زبانی تقریر فرمائی تھی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ ۷ استمبر ۱۹۰۴ء میں درج ہے۔(مؤلف)