اصحاب احمد (جلد 1) — Page 162
160 چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مکان انشاء اللہ جلدی بن جائے گا اور پھر آپ آ سکیں گے۔“ عمر کے متعلق رویائے صادقہ : اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ آپ مرض سل میں گرفتار ہوئے۔پھر کس طرح شفایاب ہوئے اور کس طرح اس کا بقایا کھانسی اور زکام رفع ہوئے۔آپ بیان کرتے تھے کہ ان دنوں غالباً جنوری ۱۹۰۱ ء میں میں نے خواب میں دیکھا کہ امرتسر کو چہ وکیلاں کی احمد یہ مسجد میں جہاں میں اکثر نماز پڑھنے جایا کرتا تھا گیا ہوں۔وہاں مکرم مولوی محمد اسماعیل امرتسری رضی اللہ عنہ نے جو بڑے نیک آدمی تھے اور ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے نماز پڑھائی ہے۔اور بعد میں پوچھا کہ کسی نے کوئی خواب دیکھی ہو تو سناؤ ( ایسا پوچھنا ان کی عادت میں داخل تھا وہ کہتے تھے کہ حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پوچھا کرتے تھے ) چنانچہ میں نے اُن کو کوئی خواب سنایا جو مجھے بالکل یاد نہیں کیا تھا۔مگر یہ یاد ہے کہ انہوں نے تعبیر یہ بتلائی کہ اب تمہاری عمر دو سال باقی رہ گئی ہے۔مجھے تکلیف تو رہتی تھی۔یہ یقین میرے دل میں گڑ گیا۔چونکہ میری بیماری میں میرے والد صاحب اور میری سوتیلی والدہ صاحبہ نے میری بڑی خدمت کی تھی، مجھے تمنا تھی کہ میں بھی ان کی خدمت کر کے احسان کا بدلہ احسان سے دوں۔مگر یہاں تو عمر کے خاتمہ کا ہی اعلان تھا اس لئے میں نے بہت دعائیں کیں کہ یا اللہ مجھے عمر اور توفیق دے کہ میں بھی ان کی خدمت کرسکوں۔پہلے آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کو نماز پڑھتے ہوئے عزرائیل جو انسان کی صورت میں تھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے پھر چھوڑ دیا۔حضرت مولوی صاحب موصوف نے تعبیر فرمائی کہ عمر بڑھ جائے گی۔لیکن ملک صاحب محترم دعاؤں میں مصروف رہے۔پورے ایک سال بعد جنوری ۱۹۰۲ ء میں آپ کو ایک پر جلال آواز آئی ” تمہاری عمر بیس سال بڑھا دی گئی ہے۔بہت حد تک آپ کو تسکین تو ہوگئی لیکن جنوری ۱۹۰۳ء تک جب تک پہلے دو سال نہیں گذر گئے آپ کو خدشہ رہا۔اس کے بعد یقین ہو گیا کہ آپ کی عمر واقعی بڑھا دی گئی ہے۔غالبا ۱۹۰۵ء میں آپ کو سخت درد قولنج ہوا آپ کے والد صاحب نے سب لوگوں کو بلا لیا کہ اب یہ قریب مرگ ہیں۔لیکن آپ نے کہا کہ فکر نہ کریں ابھی میری موت کا وقت نہیں آیا۔اس کے بعد آپ نے اپنی درازی عمر کے لئے کبھی پھر دعا نہیں کی۔اور نہ ہی آپ کو تحریک ہوئی۔۱۹۱۸ء کے قریب آپ کو انفلوئنزا ہوا اور آپ سخت بیمار ہو گئے اور زیست کی کوئی امید نہ رہی۔آپ کے اہل بیت نے بہت غم کیا اور بہت دعا کی۔انہیں کسی نے کہا کہ تم دونوں کو میں تمہیں سال کی عمر اور دی گئی ہے۔یہ بات صحیح نکلی۔راقم سے ملک صاحب نے غالباً ۱۹۴۷ء کے ابتداء میں ذکر کیا تھا کہ اب میری زندگی بہت تھوڑی باقی ہے معلوم نہیں کہ اب اس میں توسیع ہوگی یا نہ ہوگی۔محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جلسہ سالانہ