اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 160 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 160

158 اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آنا ہو جائے گا۔یہاں کی ذمہ داریاں اور ذاتی کمزوری مستقل ہجرت کے لئے انشراح نہیں دیتیں۔جسمانی کیفیت آرام کو چاہتی ہے۔مگر اس غرض سے قادیان جانا میں جائز نہیں سمجھتا۔وہاں تو قربانی اور نفس کشی کا مقام ہے جس کے لئے بوجہ کمزوری ایمان میں انشراح نہیں پاتا۔یہ ہو یا نہ ہو میرے ایمان کی ترقی اور عاقبت بخیر کے لئے ضرور دعائیں کریں۔دلم دلدار می جوید تنم آرام مے خواہد عجائب کش مکش دارم ازیں غم جان من کاہد“ اللہ تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہو کر رہیں گے اور حکومتوں کے بعد حکومتیں احمدیت کی غلامی کا طوق اپنے گلوں میں ڈال لیں گی۔اور بعد میں آنیوالوں کے لئے دنیوی مصائب کا خاتمہ ہو جائے گا۔لیکن ہجرت کی وجہ سے صحابہ کرام پر جو گزری وہ نسلوں تک کے لئے خون کے آنسور لانے کے لئے کافی ہو گا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب جن کی ساری زندگی آستانہ الہی پر گذری اور قادیان کا گوشہ گوشہ ان کی دعاؤں شعائر اللہ سے محبت و عشق اور فدائیت کا ضامن ہے۔اللہ تعالیٰ کے غناء کے آگے کسی کو دم مارنے کی جرات نہیں۔نہ ہی کوئی شکوہ ہے اور اس کے سر بستہ راز اسی کو ہی معلوم ہیں۔یہ بزرگ پچاس سال قادیان میں گزار کر ہجرت کے بہت ہی قلیل عرصہ کے بعد لاہور جا کر فوت ہوئے۔اسی طرح مسیح کے بے شمار پروانے کوئی کسی جگہ اور کوئی کسی جگہ جا کر فوت ہو گیا۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔ہجرت کے بعد جذ بہ خدمت : ملک سعید احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ تقسیم ملک کے بعد ملک صاحب پاکستان میں بطور ناظم جائیداد کام کرتے رہے۔قادیان سے ہجرت کا بوجھ آپ پر بہت زیادہ تھا اور قادیان والا سکون میسر نہ تھا۔بیمار ہوئے اچھے ہو گئے اور اسی طرح کام کرنے لگے۔پھر بہت زیادہ بیمار ہوئے، کافی لمبی رخصت لی۔ابھی پہلی بیماری کا اثر باقی تھا کہ بیماری پھر عود کر آئی۔صحت ہوگئی لیکن قوت سماعت پر کافی اثر تھا۔دوسری طرف یہ خیال تھا کہ کہیں بعض کارکنان کی طرح جو رخصت لیتے ہیں پھر کام پر حاضر نہیں ہوتے، مجھے بھی بہانہ بنانے والا نہ سمجھا جائے۔لیکن آپ کے لکھنے پر کہ میں اختتام رخصت پر کام پر حاضر ہو جاؤں گا جناب ناظر صاحب اعلیٰ ربوہ کا جواب آیا کہ فی الحال آپ کے لئے ربوہ میں کوئی مکان نہیں۔جب تک مکان نہ بن جائیں آپ رخصت پر ہی رہیں۔محترمہ آمنہ