اصحاب احمد (جلد 1) — Page 155
153 حساب سے منظور فرمالی۔لیکن آپ یہ ادائیگی بھی نہ کر سکے۔ایک دن قادیان کے لالہ بڈھا مل آپ کے پاس گورداسپور گئے اور کہا کہ مرزا اکرم بیگ صاحب والی زمین بک رہی ہے۔آپ بھی کیوں حصہ نہیں لے لیتے ؟ ملک صاحب کے کہنے پر کہ میرے پاس تو کوئی روپیہ ہی نہیں لالہ صاحب نے کہا کہ زمین بڑی اچھی چیز ہوتی ہے ایسے موقعہ پر قرض وغیرہ لیکر بھی خرید لیں۔آپ نے کہا کہ میں صاحب جائیداد بننے کے لئے قرض لینا پسند نہیں کرتا۔آخر لالہ صاحب نے کہا کہ اگر میں آپ کو ایک ہزار روپیہ بلا سود قرض دے دوں جو آپ چھپیں روپے ماہوار کی قسط سے ادا کر دیں تو آپ کا کیا نقصان ہے؟ لیکن ملک صاحب نے پھر بھی انکار کیا۔اس کے بعد منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی پٹواری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر ہوا۔تو انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ آپ کو خدا تعالیٰ دیتا ہے لے لیں ان کا کوئی مقدمہ نہیں یہ کوئی رشوت نہیں۔آپ خدا کی دین سے کیوں انکار کرتے ہیں؟ چنانچہ آپ کے لکھنے پر لالہ صاحب نے رقم ادا کر دی۔اس طرح آپ کو سترہ کنال با موقعہ زمین مل گئی جس میں سے قریباً سات کنال پر آپ نے مکان کا احاطہ بنالیا اور باقی زمین نے اندوختہ کا کام دیا۔قیام گورداسپور اور تبدیلی : آپ قریباً گیارہ سال تک گورداسپور میں متعین رہے۔ان ایام میں آپ کو قادیان آنے کا اکثر اتفاق ہوتا اور اکثر بزرگان سلسلہ بھی جب کسی کام کے لئے گورداسپور جاتے تو آپ کے ہاں قیام کرتے۔حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ہا وہاں کی دفعہ تشریف لے گئیں اور آپ کو وہ جگہ بہت پسند تھی اور ملک صاحب کے ہاں ہی قیام فرمایا تھا۔دو تین دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کے ہاں معہ اہلبیت قیام فرمایا۔آپ کی تبدیلی کا کوئی سوال نہ تھا کہ آپ نے خواب دیکھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی گورداسپور میں تشریف لائے ہیں اور بازار سے کھانا کھایا ہے۔چونکہ چند بار حضور آپ کے ہاں قیام کر چکے تھے۔اس لئے ملک صاحب کو خواب میں بہت فکر اور شرم محسوس ہوئی کہ حضور بازار سے کھانا کھا ئیں۔چند دن بعد آپ کا تبادلہ حصار ہوا۔اور پھر وہاں سے ڈیرہ غازیخاں، پھر ملتان۔بعدہ دوبارہ ڈیرہ غازیخاں۔اس کے بعد ہوشیار پور جہاں سے آپ ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ملک سعید احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ قیام گورداسپور میں احمدیت اور مرکز سے آپ کی وابستگی بہت گہری ہوگئی تھی۔وہاں سے تبادلہ کو آپ نے بہت محسوس کیا۔ایک دفعہ کسی مجبوری سے جلسہ سالانہ پر نہ آ سکے۔جس کا آپ کو بہت غم ہوا۔بار بار ذکر کرتے تھے کہ قبول احمدیت سے اس وقت تک یہ پہلا موقعہ ہے کہ جلسہ میں شرکت سے محروم ہورہا ہوں۔چنانچہ ایک نظم تحریر کی جو الفضل میں شائع ہوئی اس کا ایک شعر یہ ہے