اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 153 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 153

151 سال کی تھی۔بعد میں پورٹ بلیئر گورنمنٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر ہے ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) قادیان کی ڈھاب میں کشتی چلا رہے تھے۔مکرم خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے مکان نزد بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے پاس کھڑے ہو کر ہم نے کہا میاں صاحب سانوں وی سیر کراؤ۔یعنی میاں صاحب ہمیں بھی سیر کرائیں۔آپ چُپ چاپ کشتی ہمارے پاس لے آئے، ہم دونوں اس میں بیٹھ گئے اور آپ پنڈورہ * کے قریب تک گئے اور پھر واپس آکر دارالا نوار کے راستہ پر جو پل ہے اس کے نیچے سے گذرے اور جہاں اب میونسپل کمیٹی کا دفتر بن چکا ہے اس کے قریب تک ہمیں لے گئے۔اور واپس لا کر اسی جگہ کشتی کھڑی کر دی جہاں سے شروع میں روانہ ہوئے تھے۔اس سارے وقت میں آپ نے کوئی بات نہ کی۔بلکہ جب پل کے نیچے سے گذرنے لگے اس وقت بھی منہ سے ہم کو نہیں کہا کہ سر جھکا لوتا ٹکر نہ لگے بلکہ خود اپناسر جھکا لیا اور ہم نے بھی آپ کو دیکھ کر آتے اور جاتے ایسا ہی کیا۔کوئی بات نہیں ہوئی۔بجز اس کے کہ داخلہ اور رخصت کے وقت ہم نے السلام علیکم کہا اور آپ نے جواب دیا۔وصیت کا واقعہ : آپ کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر واقعہ آپ کا وصیت کرنا ہے۔اگر چہ الوصیت آپ کے سامنے شائع ہوئی۔دوستوں نے وصیتیں بھی کیں اور آپ کو بھی بعض دوستوں نے تحریک کی۔مگر آپ کی طبیعت ادھر آتی نہیں تھی۔عادت پڑی ہوئی تھی کہ ہر چیز کے عقلی دلائل ہوں اور وہ اس بارہ میں اپنے مقررہ معیار کے مطابق سمجھ میں نہ آتے تھے۔لیکن اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے رہنمائی فرمائی۔واقعہ یوں ہے کہ جب قادیان سے قرآن مجید کا پہلا پارہ انگریزی میں شائع ہوا تو جماعت کی طرف سے آپ نے اس کی ایک کاپی ڈاکٹر سیف الدین صاحب کچلو کانگرس لیڈر کے پاس فروخت کی۔یہ صاحب کچھ عرصہ احمدی بھی رہے تھے۔اور خوب نمازیں پڑھا کرتے تھے۔اور کانگرس لیڈر بن کر انہوں نے نماز ترک کر دی اور کہتے تھے کہ یہ پروپیگنڈے کا کام جو ہم قوم کی خاطر کرتے ہیں نماز سے مقدم ہے۔اس روز آپ نے ڈاکٹر صاحب کو پھر نماز کی تلقین کی تو انہوں نے وہی جواب دیا۔ملک صاحب نے پوچھا کہ آپ مسلمان ہیں۔کیا قرآن مجید کو الہامی مانتے ہیں؟ انہوں نے کہا مانتا ہوں۔ملک صاحب نے کہا پھر اگر قرآن مجید نماز پڑھنے کو کہے تو کیوں نہ پڑھو؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کسی یعنی خاکروبوں کا محلہ۔بعد میں حضرت خلیفہ اصبح الان ایدہ اللہ تعالی کی طرف سے اسے دارالصحت کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔لیکن اب تقسیم ملک کے بعد میونسپل کمیٹی نے اسے ہریجن پورہ کا نام دیا ہے۔(مؤلف)