اصحاب احمد (جلد 1) — Page 147
145 ”یہ ترجمہ کرنے کی خدمت میرے سپرد ہوئی کیونکہ وہاں اُن دنوں نائب مترجم تھا۔حضرت اقدس کے بیانات میں ایک ایمان افزا ایمانی رنگ پایا جاتا تھا۔مگر خاص لطف مجھ کو کتاب مواہب الرحمن کے حصہ متنازعہ کا ترجمہ کرنے میں آیا۔اس میں حضور نے اپنی ایک رویا کا ذکر کیا تھا کہ میں نے دیکھا کہ مجھے ماخوذین یعنی ملزموں کی طرح ایک عدالت میں حاضر کیا گیا ہے۔اور میرا انجام کا رنجات ہے اگر چہ ایک وقت کے بعد۔چنانچہ لفظ یہ تھے و ان آخرأ مرى نجاة ولو بعد حين اب اس میں بعد حین کا لفظ عجیب تھا۔حین کے معنی وقت اور موقعہ دونوں ہو سکتے ہیں۔مگر ایسا تو کوئی مقدمہ نہیں ہوتا جس پر وقت صرف نہ ہوتا ہو۔مطلب صاف تھا کہ پہلے موقعہ پر نہیں۔یعنی پہلی عدالت سے نجات نہیں ہوگی۔بلکہ اس موقعہ کے بعد اپیل میں نجات ہوگی۔جب میں نے یہ ترجمہ کیا تو میری توجہ ان معنوں کی طرف مبذول ہوئی۔اور میں نے تو یقین کر لیا کہ اپیل منظور ہو جاوے گی۔جب اپیل کا دن آیا تو حضور کی طرف سے ایک انگریز وکیل لاہور سے آیا ہو اتھا۔خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بھی بحیثیت وکلاء حاضر تھے۔مولوی کرم دین صاحب بھی حاضر تھے اور غالباً سرکاری وکیل اور ان کا وکیل بھی تھا۔مگر وہاں کسی بحث کا سوال ہی پیدا نہ ہوا۔جج صاحب نے چھٹتے ہی مولوی کرم دین صاحب سے پوچھا کہ آپ کو یہ شکایت ہے کہ مرزا صاحب نے آپ کو جھوٹا کہا (ہے) انہوں نے کہا ہاں۔پھر ان کا بیان سُنا کر کہا کہ یہ سچ تھا اور جھوٹ نہیں تھا اب وہ بیان تو مستلماً جھوٹا تھا اس لئے مولوی صاحب یہ تو نہ کہہ سکے کہ سچ تھا۔مگر یہ کہا۔نہیں حضور ! یہ جھوٹ نہیں اس کو پالیسی کہتے ہیں۔اس طرح جھوٹوں اور چوروں کو پکڑنے کو کیا جاتا ہے۔جج صاحب نے کہا میں تو یہ پوچھتا ہوں کیا یہ سچ تھا ؟ مولوی صاحب نے پھر کہا کہ نہ حضور ! یہ جھوٹ نہیں ایسا جھوٹ گورنمنٹ بھی بولتی ہے پولوس نے بھی بولا مسیح نے بھی بولا۔جج صاحب نے کہا میں ( یہ ) نہیں پوچھتا کہ کس کس نے بولا۔سوال یہ ہے کہ خدا کے نزدیک یہ جھوٹ تھا یا سچ تھا؟ مولوی صاحب سٹ پٹائے اور جواب دینے سے پہلو بچانا چاہا۔مگر جج صاحب نے کہا آپ گواہ کے کٹہرے Witness Box) میں آ جاویں۔آپ کا حلفیہ بیان لیا جاوے گا۔مولوی صاحب گواہ کے کٹہرے Witness Box) میں جانا نہیں چاہتے تھے۔مگر حج