اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 146 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 146

**6 144 صاحب مرحوم نے مجھے سنایا تھا اور انہوں نے تصدیق کیا تھا۔* فیصلہ اپیل بمقدمه کرم دین : ملک صاحب فرماتے تھے: * ** جب کرم دین تھیں والے نے حضور پر گورداسپور میں کتاب مواهب الرحمن کی تحریر کی بناء پر دعوی ہتک عزت کیا ہو اتھا۔تو حضور نے ایک الہام شائع کیا تھا ” والعاقبة للمتقين۔اور تشریح یہ فرمائی تھی کہ یہ گورداسپور کے مقدمات کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انجام کار ہم کو فتح دے گا۔لیکن اس مقدمہ میں ہندو مجسٹریٹ نے حضور کو پانصد روپیہ جرمانہ کی سزا دے دی۔وہ جرمانہ تو خیر اسی وقت ادا ہو گیا۔مگر اس کے جلد ہی بعد حضور کو ایک اور فوجداری مقدمہ میں جو جہلم میں حضور کے خلاف دائر تھا جہلم جانا پڑا۔امرتسر کے سٹیشن پر ہم حضور کو ملنے گئے۔میاں عزیز اللہ صاحب وکیل نے حضورڑ کو کہا کہ لوگ ہمیں بہت تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ( کہ ) مقدمہ میں بربیت نہ ہوئی سزا ہوگئی الہام غلط ہو گئے۔اس پر حضور نے نہایت بے تکلفی سے مگر ایک ایسی معصوم آواز سے جو اس وقت سے اس وقت تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے اور وہ انداز ایک وجد کی کیفیت پیدا کرتا ہے اس قدر فرمایا۔یہ شتابکار لوگ ہیں ان کو انجام دیکھنا چاہئے۔کہنے کو یہ چند لفظ تھے مگر مجھ پر جو ان کا اثر ہے وہ بس میرا دل ہی جانتا ہے۔اس کیفیت کو بیان کرنے کو الفاظ کافی نہیں ہو سکتے۔مقدمہ مندرجہ بالا کا جب اپیل سیشن کورٹ امرتسر میں ہوا اس وقت مسٹر اے۔ای ہری صاحب۔۔A۔E۔Hurry) امرتسر کے سیشن جج تھے۔انہوں نے تاریخ پیشی سے پہلے مسل کو سُنا اور اس میں سے کتاب مواہب الرحمن کے متنازعہ حصہ اور حضرت اقدس اور مولوی کرم دین صاحب کے بیانات کا ترجمہ کرنے کا حکم دیا۔اور یہ بھی خاص طور پر حکم دیا کہ اس اپیل میں مولوی کرم دین مستغیث کو بھی نوٹس حاضری دیا جاوے۔خطوط وحدانی والے الفاظ میری طرف سے ہیں۔(مؤلف) ** 6 مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ ( سابق امیر جماعت ہائے گورداسپور حال پبلک پراسیکیوٹر سرگودھا) بیان فرماتے ہیں کہ ملک مولا بخش صاحب کرم دین بھیں والے کی اپیل کا واقعہ ہمیشہ بڑا مزہ لے کر سنایا کرتے تھے۔اس وقت وہ سیشن جج امرتسر ( جوان دنوں ڈویژنل جج امرتسر کہلاتا تھا اور گورداسپور اس کے اختیار سماعت میں تھا) کے ریڈر تھے۔(مؤلف)