اصحاب احمد (جلد 1) — Page 144
142 تو وہ عربی پڑھ کر میں نے کہا کہ ایسی فصیح عربی تو (ایک) عرب بھی نہیں لکھ سکتا۔چہ جائیکہ ایک مجھی لکھے۔اگر یہ عربی حضرت مرزا صاحب کی ہی لکھی ہوئی ہے تو وہ ضرور مامور من اللہ ہیں (اور ) کہا کہ ) میں اس امر کی تحقیق کیلئے قادیان آیا اور حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا یہ آپ کی لکھی ہوئی کتاب ہے؟ فرمایا ہاں۔اللہ کے فضل سے میں نے ہی لکھی ہے۔میں نے کہا کہ اگر آپ ایسی عربی مجھے لکھ کر دکھلا دیں تو میں آپ کو صادق مامورمن اللہ تسلیم کر لیتا ہوں۔اللہ ! اللہ ! حضور نے کیا پاک جواب دیا۔اگر کوئی غیر مامور ہوتا تو جھٹ لکھنے بیٹھ جاتا۔حضور نے جواب دیا ( کہ یہ جو آپ طلب کرتے ہیں یہ ایک اقتراحی معجزہ ہے۔جو سنت انبیاء کے خلاف ہے۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔میں تو تب ہی لکھتا ہوں جب میرا خدا مجھ سے لکھواتا ہے۔پھر عرب صاحب نے مہمان خانہ میں بیٹھ کر ایک عربی خط لکھ کر حضور سے چند باتیں پوچھیں حضور نے عربی میں جواب دیا تو عرب صاحب کی تسلی ہوگئی اور بیعت کر لی۔حضور کی شعر گوئی اور تذکرۃ الشھادتین کی فارسی نظم : ملک صاحب بیان کرتے تھے۔اسی قسم کی ایک اور مثال مجھے یاد ہے۔اور وہ یہ کہ جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے کابل میں سنگسار ہونے کے فوراً بعد ہم قادیان گئے تو بعد مغرب کی مجلس میں اس کا تذکرہ تھا۔غالباً ( مکرم سید ) احمد نور صاحب کابلی (افغانستان سے) آئے تھے اور اُنہوں نے حالات سنائے تھے۔حضور کو سخت صدمہ تھا۔حضور نے ارادہ ظاہر فرمایا کہ ہم اس کے متعلق ایک کتاب لکھیں گے۔مجھے چونکہ حضور کے فارسی اشعار سے بہت محبت ہے، میں نے عرض کیا حضور ! کچھ فارسی اشعار بھی ہوں۔حضور نے جھٹ فرمایا ”نہیں ہمارا مضمون سادہ ہوگا۔لیکن جب کتاب تذکرۃ الشہادتین شائع ہوئی تو اس میں ایک لمبی پُر درد فارسی نظم تھی۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ ( یہ ) کیسے پاک لوگ ہیں اپنے ارادہ سے نہیں بلکہ مسیح ربانی تحریک کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ورنہ ان * کو شعر گوئی سے کوئی نسبت نہیں“۔خطوط وحدانی والے الفاظ میری طرف سے ہیں۔(مؤلف) (الف) خطوط وحدانی کے الفاظ میری طرف سے ہیں۔(باقی اگلے صفحہ پر )