اصحاب احمد (جلد 1) — Page 136
134 " ۸ مولی بخش صاحب ( یعنی امرتسر کٹر جمیل سنگھ ) * بعض رشتہ داروں نے بیعت کرنے پر آپ کے متعلق افسوس کا اظہار کیا اور آپ کے والد صاحب سے علیحدگی میں آپ کے لامذہب ہو جانے پر اظہار ہمدردی کیا۔مگر انہوں نے جواب میں کہا کہ میں اپنے بیٹے میں کوئی برائی نہیں دیکھتا۔وہ پہلے سے اچھا ہے بلکہ مجھ سے بہتر مسلمان معلوم ہوتا ہے۔ایسی ملازمت ہونے کی وجہ سے جہاں اکثر لوگوں کو کام پڑتا ہے آپ کو عوام سے بھی کوئی قابل ذکر تکلیف نہیں پہنچی۔آپ کے نزدیک حضور کا مقام: حضور کے مقام کے متعلق آپ بیان کرتے تھے کہ : ” جب ( میں نے ) بیعت کی تو حضرت اقدس کو ایک صادق انسان سمجھ کر بیعت کی اور اس ایمان سے کی کہ جو کچھ حضوڑا اپنی حیثیت اور تعلق باللہ اور دعاوی کے متعلق فرماتے ہیں وہ سچ ہے۔چند ہی ماہ بعد میرے اور میرے دوست میاں عزیز اللہ صاحب وکیل کے درمیان اس بارہ میں گفتگو شروع ہوگئی کہ حضرت اقدس کا مقام کیا ہے۔اس وقت میرا استدلال یہ تھا کہ حضوڑ کا اور حضور کی جماعت کا مقام بمقابلہ مسلمانوں کے وہی ہے جو قوم یہود میں حضرت عیسی علیہ السلام نبی ناصری اور آپ کی جماعت کا تھا۔بلکہ میں نے اس وقت ہی یہی کہا تھا کہ اس مماثلت سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح ہو ہمیں دیگر مسلمانوں سے بالکل ایک الگ جماعت بننا پڑے گا۔اور ہمارے تعلقات ان سے وہی ہوں گے جو نصاری کے یہود سے ہوئے۔میاں عزیز اللہ صاحب نے اب جماعت احمدیہ سے تعلق قطع کر رکھا ہے۔لیکن چند سال ہوئے جب میں نے ان کو یہ بات یاد دلائی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔اس لئے جب اشتہار ایک غلطی کا ازالہ * ” نکلا تو مجھے اس پر کوئی تر در نہیں ہوا دو *** 66 نہ یہ کوئی غیر معمولی بات معلوم ہوئی۔بلکہ میں نے اسے اپنے خیال کی واضح تائید سمجھا “ * الحکم جلد نمبرا ( صفحه ۱۶ کالم ۳) بابت ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ء۔لیکن صفحه ۱۵ مولا بخش صاحب امرتسر“ کی بیعت (الحکم جلد ۴ نمبر ۴۳ ( صفحه ۶ کالم ۳) بابت ۳۰ نومبر ۹۰اء والا اندراج ملک صاحب کی بیعت کا نہیں بلکہ کسی اور صاحب کا ہے۔کیونکہ ملک صاحب کی بیعت ۷ یا ۲۸ دسمبر ۱۹۰۰ ء کی ہے۔اور اس کا اندراج جنوری ۱۹۰۱ء کے پرچہ میں ہی ہونا ممکن تھا۔(مؤلف) مصنفه ۵ نومبر ۱۹۰۱ء۔(مؤلف) خطوط وحدانی کے الفاظ میری طرف سے زائد ہیں۔(مؤلف) ***