اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 116 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 116

114 میں داخل کرتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔یہ سب جو بیٹھے ہیں یہ قبریں ہی سمجھو۔کیونکہ آخر مرنا ہے۔پس ثواب حاصل کرنے کا وقت ہے۔میں ان باتوں کو جو خدا نے میرے دل پر ڈالی ہیں سادہ اور صاف الفاظ میں ڈالنا چاہتا ہوں۔اس وقت ثواب کے لئے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کرینگے تو کچھ کم ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پُر ہو جائیں گی۔مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرٌيَّرَه - یاد رکھو خدا کی توفیق کے بغیر دین کی خدمت نہیں ہو سکتی۔جو شخص دین کی خدمت کے واسطے شرح صدر سے اُٹھتا ہے۔خدا اس کو ضائع نہیں کرتا۔اس انجمن کی مجلس عامہ کے ممبر تمام خریداران حصص تھے۔اس کے سر پرست اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پریذیڈنٹ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور وائس پریذیڈنٹ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مقرر ہوئے۔ایک ہزار حصص مطلوب تھے۔اس پر چہ اخبار میں ایک سو اکتالیس ۱۴۱ احباب کی طرف سے پونے آٹھ سو حصص کی خریداری کے اسماء درج ہیں۔ان میں سے باون نے ایک ایک حصہ خریدا چنانچہ وہاں آپ کا نام امام الدین صاحب پٹواری لوہ چپ گورداسپور مرقوم ہے۔ہے انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے۔لیکن لوگوں کی اصلاح کی خاطر یا تو دوسروں کے خیالات کا انہیں علم دیا جاتا ہے یا بغیر علم دیئے جانے کے ان کی زبان پر ایسا کلام جاری کر دیا جاتا ہے جس سے ان خیالات کی اصلاح ہو سکے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام تھم فرماتے ہیں: و بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے اور بعض اصحاب بھی حلقہ نشین تھے۔تو اس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ حضرت اقدس کا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا ہے مگر مہدی جو اس زمانہ میں آنا تھا۔کیا وہ کوئی علیحدہ شخص ہوگا۔اسی وقت حضور علیہ السلام نے تقریر شروع فرما دی اور بیان فرمایا کہ میں مسلمانوں کے لئے مہدی یعنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود یعنی حضرت مسیح ناصری کا مثیل بن کر آیا ہوں۔حضور نے لمبی تقریر فرمائی جس سے میری پوری تسلی ہوگئی۔اسی طرح اکثر دیکھا ہے کہ اگر کسی کوکوئی اعتراض پیدا ہوتا تو حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم دیا جا تا تھا اور حضور علیہ السلام اسے بذریعہ تقریر رد فرما دیا کرتے تھے۔