اصحاب احمد (جلد 1) — Page 115
113 تبلیغ کیلئے وقف ایام: ہجرت کر کے قادیان آجانے کے بعد آپ تبلیغ میں مصروف رہے اور پندرہ پندرہ دن کے لئے تبلیغ کی غرض سے باہر چلے جاتے۔ایک دفعہ پھیر و پیچی کے قریب کسی گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے۔وہاں کے لوگوں نے سخت مخالفت کی اور دھکے دیکر مسجد سے باہر نکال دیا۔آکر بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ ملازمت کے دنوں میں تو لوگ سختی نہ کر سکتے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے یہ موقع بھی نصیب کر دیا اور خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھانے کی لذت حاصل ہوئی۔تحریک جدید کے ماتحت ایک ماہ کے لئے آپ کو بغرض تبلیغ مکیریاں بھجوایا گیا۔وہاں روزانہ مخالفین کی طرف سے اس مکان پر جہاں آپ کا قیام تھا سنگباری ہوتی۔سخت گرمیوں کے دنوں میں اندر کواڑ بند کر کے پناہ لیتے۔جلسہ سالانہ ۱۹۳۸ء سے چند روز پہلے بیمار ہو گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ میں یہ تحریک فرمائی کہ ہر احمدی کو سال میں کم از کم ایک احمدی ضرور بنانا چاہئے۔چوہدری ظہور احمد صاحب نے آکر اس کا ذکر کیا اور بعد میں محلہ والے بھی وعدہ لینے کے لئے آئے۔فرمانے لگے بیمار ہوں زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔لیکن بتوفیقہ تعالیٰ انشاء اللہ ایک احمدی ضرور بناؤں گا۔بعض غیر احمدی تین سال سے آپ کے زیر تبلیغ تھے۔وہ بیماری کے ایام میں عیادت کے لئے آتے تھے۔اس وعدہ کے بعد ان کو آپ نے زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ نے اس میں اثر پیدا کیا اور دو اشخاص نے بیعت کر لی۔اس طرح زندگی کے آخری ایام میں بھی آپ کو با وجود بیماری اور کمزوری کے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی توفیق مل گئی۔انجمن اشاعت اسلام کا قیام: انگریزی میں سلسلہ کا لٹریچر شائع کرنے اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے اجراء کے لئے تجارتی رنگ پر مستقل سرمایہ کی ضرورت کو تسلیم کر کے سلسلہ کی طرف سے ایک مستقل فنڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ایک انجمن موسوم بہ انجمن اشاعت اسلام قائم ہوئی۔اس کے افتتاحی اجلاس میں اس مارچ ۱۹۰۱ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک لمبی تقریر فرمائی جو اخبار میں نو کالموں میں درج ہے۔اس میں حضور نے دجالی فتنہ کا ذکر کر کے بتایا کہ کس طرح بیس لاکھ مسلمان مرتد ہو چکے ہیں اور کثیر لٹریچر اسلام کے خلاف شائع ہوا ہے۔مومن کے دل میں غیرت ہونی چاہئے۔بے غیرت دیوث ہوتا ہے۔اگر اسلام کی عزت کے لئے دل میں محبت نہیں، تو عبادت بھی بے سود ہے کیونکہ عبادت محبت ہی کا نام ہے۔نیز حضور نے اس تقریر میں فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم کو اس قدر خزانے دے دیتا کہ ہم کو پروا بھی نہ رہتی۔مگر خدا ثواب