اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 109 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 109

108 کے سب یقیناً سمجھ گئے تھے کہ ایوب بیگ جنتی ہے اور وہ سڑک جنت کی ہے۔اور حضرت نے اُسی روز فر مایا تھا کہ جو کچھ مقدر ہو مگر اس میں شک نہیں کہ ایوب بیگ کا خاتمہ بہت اچھا ہے۔ย میں اس وقت حلفاً کہتا ہوں کہ ایوب بیگ کے متعلقوں میں کوئی ایسا متنفس نہیں جس کی زندگی کی کسی شان کی نسبت مجھے غبطہ اور شک ہومگر ایک ایوب بیگ مرحوم ہے جس کے حسن خاتمت نے مجھے بہت بڑا رشک دلایا ہے۔وہ اس پاک ایمان پر مرا۔اس نے زمانہ میں امام زمان کو شناخت کیا اور اخیر دم تک اس ایمان پر ثابت قدم رہا۔اور آخری گھڑی تک خدا تعالیٰ کے مسیح کو یاد کرتا رہا۔اور ہم ہیں کہ ابھی ہمارے اعمال جاری ہیں، اور ہماری حالت امید و بیم میں معلق ہے اور سخت اضطراب میں ہیں کہ خاتمہ کیسا ہو۔ہر مومن کو جو اندیشہ لگ رہا ہے وہ سوء خاتمت کا اندیشہ ہے۔مگر ایوب بیگ یقینا نیک خاتمہ کے ساتھ اس جہان سے اُٹھا۔پس کس قدر مبار کی اور فخر اس کے اہل کو ہے جن میں ایک فرد ایسا گذرا ہے کہ اہل اللہ اور راستباز اس کی موت پر رشک کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی قسم میں بڑا ہی نااہل ہوں گا اگر میں مکرم مرزا نیاز بیگ کو دردمندی سے بھرا ہوا اور رُلا دینے والا خط لکھوں۔حق یہ ہے کہ میں ان کو تہہ دل سے مبارکباد دوں کہ انہوں نے اپنی پیٹھ سے ایک نمونہ ہم لوگوں کو دیا جس کی زندگی اور موت دونوں حالتیں برگزیدہ سلسلہ کے خدام کے لئے نمونہ تھیں۔مرزا نیاز بیگ صاحب کی طرف سے اس پاک جہان میں ایک نیک فرط چلا گیا جوان کے لئے راہ صاف کرے گا۔یہ جہان تو لا بد گذاشتنی ہے مگر کیا ہی مبارک وہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں گذرے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تک رہ رہ کر دل بھر بھر آتا ہے اور وہ سعادت اور فرخی کی مورت آنکھوں کے سامنے پھر پھر جاتی ہے وہ حیاء سے آنکھیں نیچی کر لینا اور ہر امر کے آگے پورے انقیاد سے سر رکھ دینا اور ہمہ محبت چہرہ بار بار یاد آتا ہے اور یہ ساری باتیں ان میں سے ایک ہی نا مندمل زخم کرنے کے لئے کافی ہوتیں۔مگر ایک ہی اور صرف ایک ہی یقین تسلی دیتا اور تلافی کر دیتا ہے کہ جانا تو ضرور تھا مگر جانے والا گیا خوب ہے۔حضرت رحیم کریم علیہ السلام کو بھی بڑا صدمہ پہنچا اور فرمایا ہمارا ایک بیٹا مر گیا ہے۔مگر یہی ایمان اور یقین آپ کی تسلی کا موجب بھی ہے کہ مرحوم کا انجام خوب ہوا۔غفر اللہ لہ۔