اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 89 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 89

88 آپ کے والد کا کیا نام ہے۔جواب پر (چونکہ حضور والد صاحب اور خاندان کو جانتے تھے ) فرمایا کہ آپ تو ہمارے قریبی ہیں۔* پھر بیعت لی۔بیعت کرنے سے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے ٹو راندر بھر جاتا ہے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں ایک روز قبل بیعت کر چکا تھا۔حضور کی صداقت پر ایک ہندو کی شہادت: بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قیام چند روز لاہور میں رہا۔دونوں بھائی قریباً ہر روز سکول کی پڑھائی کے بعد حضور کی صحبت میں جا کر بیٹھتے اور اکثر حضور کی گفتگو جو مجلس میں مخالفین سے ہوتی سُنتے تھے۔انہی دنوں ایک شخص آیا اور اس نے نہایت ناپاک اور گندے الفاظ سے حضور کو مخاطب کیا اور بہت گالیاں دیں۔حضور خاموش ہوکر سنتے رہے۔احباب چاہتے تھے کہ اُسے بند کر دیں اور باہر نکال دیں۔مگر حضور نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔سوکسی نے اُسے نہ روکا۔حتی کہ وہ بکواس کرتے کرتے خود ہی خاموش ہو گیا۔اس کے خاموش ہو جانے پر حضرت نے اُسے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”بھائی کچھ اور بھی کہہ لے۔چہرہ مبارک پر آثار ملال نظر نہ آتے تھے۔یہ الفاظ سُن کر اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور گڑ گڑا کر حضوڑ کے پاؤں پر گر پڑا۔اور معافی کا خواستگار ہوا۔اور کہنے لگا کہ مجھ سے سخت نادانی ہوئی۔میں حضور کے مرتبہ کو پہچانتا نہیں تھا۔میری تو بہ۔اس وقت ایک معزز ہندو بھی مجلس میں تھا۔اس نے مولوی رحیم اللہ صاحب لاہوری رضی اللہ عنہ کو حضور کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ شخص مجھے ناکام رہنے والا معلوم نہیں ہوتا۔یہ دنیا کو جیت جائے گا۔اور یہ بھی کہا کہ مسیح کے تحمل اور بردباری کا حال میں نے کتابوں میں پڑھا تھا۔مگر مرزا صاحب کا نمونہ اس سے کچھ کم نہیں۔انہی ایام میں ایک شخص دیوانہ وار گلی کوچوں میں پھرا کرتا تھا۔اور اپنے تئیں مہدی کہتا تھا۔حضرت مسجد سے نماز پڑھ کر تشریف لا رہے تھے جب مکان کے قریب پہنچے تو اس دیوانہ نے حملہ کر دیا۔اور حضور کی دستار مبارک سر پر سے گر پڑی۔سید فصیلت علی شاہ صاحب اور ان کے بھائی سیدامیرعلی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس اور کئی دوستوں نے جو ساتھ تھے اُسے پکڑ لیا۔تا اُسے اس حرکت کی سزا دیں۔مگر حضرت نے منع کیا اور فرمایا کہ اسے چھوڑ دو یہ عاجز ہے۔atok* ** * مراد یہ ہے کہ وطن کے لحاظ سے قریب کے ہیں۔ورنہ قرابت اور رشتہ داری نہ تھی اور نہ ہی مراد ہے۔(مؤلف) مولوی صاحب کے سوانح کتاب ہذا میں درج ہیں۔(مؤلف) ** *** (0) مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش فرماتے ہیں کہ پاگل آدمی کے حضرت پر حملہ (باقی اگلے صفحہ پر )