اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 87 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 87

86 مرزا اکبر بیگ صاحب : مرزا اکبر بیگ صاحب ۳۱۳ صحابہ کے قابل فخر گروہ میں سے تھے۔چنانچہ اس فہرست میں ان کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔۲۲۱۔مرزا اکبر بیگ صاحب کلانور آپ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح خلاف ثانیہ سے وابستہ رہے۔آپ کے اکلوتے بیٹے مرزا مبارک بیگ صاحب صحابی ہیں۔اور خلافت ثانیہ سے وابستہ ہیں۔مرزا اکبر بیگ صاحب محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔رسیدات آمدنی مدرسہ تعلیم الاسلام ) کے عنوان کے تحت مرزا اکبر بیگ صاحب کمر مسانی ضلع میانوالی عہد آپ کے متعلق ایک اندراج ہمیں ملتا ہے۔کہ آپ نے ۱۲ جولائی ۱۹۲۷ء کو کلانور میں وفات پائی اور و ہیں مدفون ہیں۔افسوس کہ مزید سواخ ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔مرزا ایوب بیگ صاحب کی ولادت اور تعلیم وغیرہ: مکرم مرزا ایوب بیگ صاحب ماہ اگست ۱۸۷۵ء میں بمقام کلانور (ضلع گورداسپور ) پیدا ہوئے۔ان ایام میں پنجاب میں عام طور پر کثرت سے بارشیں ہو رہی تھیں۔بلکہ کئی جگہ سیلاب بھی آئے تھے۔آپ کے والدین اس خیال سے کہ کہیں سکونتی مکان گر نہ جائے۔دیوان خانہ میں آگئے تھے۔اور وہیں مرزا صاحب کی ولادت ہوئی۔قبول احمدیت سے قبل آپ کو نمازوں کی باقاعدہ ادائیگی کی طرف توجہ نہ تھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی امور سے لگاؤ نہ تھا۔آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پاتے رہے اور بی۔اے تک تعلیم پائی اور بعد ازاں چیفس کالج لاہور میں بطور سائنس ماسٹر کام کرتے رہے۔قبول احمدیت : مباحثہ دہلی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لاہور میں کئی روز تک قیام رکھا۔ان ایام * معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو غلط فہمی ہوئی تھی۔حضرت اقدس کا مباحثہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی سے آخر اکتوبر ۱۸۹۱ء میں ہوا ( بحوالہ الحق دھلی اور بیعت کا واقعہ فروری ۱۸۹۲ء کا ہے۔اور مباحثہ دہلی کے بعد حضور لا ہور تشریف نہیں لے گئے۔بلکہ دہلی سے پٹیالہ اور وہاں سے قادیان تشریف لے آئے۔(دیکھئے روایت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم مندرجہ سیرۃ المہدی حصہ دوم نمبر ۴۱۷ و مجد داعظم حصہ اول صفحه ۳۲۴ صفحه ۳۲۵ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۴ میں مندرج مکتوب مورخہ 9 جنوری ۱۸۹۲ ء جو حضور نے قادیان سے تحریر فرمایا) شائید سہو قلم ڈاکٹر صاحب محترم مباحثہ لا ہور کی بجائے مباحثہ دہلی کا ذکر کر گئے کیونکہ حضور جنوری ۱۸۹۲ء میں لاہور تشریف لے گئے اور ”محبوب رایوں“ کے مکان واقعہ ہیرا منڈی میں مقیم ہوئے۔( بحوالہ مجد داعظم حصہ اول صفحہ ۳۲۹) اور لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے ۳ فروری ۱۸۹۲ء کو حضورڑ کا مباحثہ ختم ہوا۔( بحوالہ اشتہار حضور ۳ / فروری ۱۸۹۲ء مندرجه تبلیغ رسالت حصہ دوم صفحه ۹۶)۔(مؤلف)۔