اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 85 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 85

84 حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھ دیا۔دین کے لئے غیرت: اس کے بعد پہلے ہی جلسہ سالانہ پر آپ اپنے بیٹے کو لے کر قادیان آئے۔وہ سُناتے ہیں کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے مکان کے قریب گلی میں ایک صاحب ملے اور کہا کہ مرزا صاحب آپ کہاں؟ آپ نے جواب دیا قادیان اور کہاں ! اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ( ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب) تو لاہور کی طرف ہیں۔آپ نے کہا کہ کیا میں ان کا ذمہ دار ہوں؟ میں نے دیکھا کہ اس گفتگو سے آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔چند قدم کے فاصلہ پر ایک اور دوست نے بھی السلام علیکم کے بعد سوال کیا کہ مرزا صاحب آپ کہاں؟ یہ صاحب آپ کے بے تکلف دوست تھے۔آپ نے جواب دیا کہ قادیان اور کہاں؟ اس پر اس دوست نے کہا ڈاکٹر صاحب ( ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ) تو لاہور کی طرف ہیں۔اس دوسری دفعہ کے واقعہ سے آپ کی طبیعت قابو سے باہر ہو چکی تھی۔آپ نے نہایت غصہ سے کڑک کر جواب دیا کہ کیا میں ایمان فروش ہوں؟ مجھے اس سے کیا کہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟ اس پر یہ بے تکلف دوست بے ساختہ آپ سے ہنستے ہوئے لپٹ گئے۔جیسے کوئی اپنے قصور کی معافی چاہتا ہے۔مگر آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ آپ کے چہرے پر بشاشت نہ آئی۔جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ آپ نے ان سوالات سے اپنی سخت ہتک محسوس کی ہے۔خلافت سے وابستگی کی وجہ سے آپ اپنی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ صدیقہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت سید ناصر شاہ صاحب کو جو کہ مبائعہ ہیں بڑی محبت سے فرمایا کرتے تھے کہ یہ میری دین کی بہن ہے۔کیونکہ دوسری دونوں بہنیں خلافت سے وابستہ نہ تھیں۔سادگی اور دینی امور سے محبت : آپ کی طبیعت میں سادگی بہت تھی۔اور درویشانہ زندگی کو پسند کرتے تھے۔آپ کے بیٹے نے چودہ پندرہ سال کی عمر میں بُوٹ خریدنے کا مطالبہ کیا۔فرمانے لگے بیٹا! بوٹ کی ایڑی کتنی اونچی ہوتی ہے؟ بچے نے بتایا کہ ایک انچ کے قریب۔فرمانے لگے کہ اس سے انسان کا دماغ اتنا ہی اونچا ہو جاتا ہے۔پھر بچے نے کہا کہ کلاہ ہی لے دیں۔جواباً فرمایا کہ بیٹا! اس کا بھی یہی حال ہے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں احمد یہ چوک میں آپ نے اپنے بیٹے کو حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرایا۔حضور نے انتہائی شفقت سے اپنے دائیں ہاتھ سے بچے کی ٹھوڑی کو پکڑ کر ہلایا اور پوچھا کہ تم نے ہمیں پہچان لیا ہے؟ مرزا صاحب کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا آئیں۔اور رقت بھری آواز سے بولے کہ بیٹا! کہو کہ آپ کو ساری دنیا نے پہچان لیا ہے۔تو میں نے نہیں پہچانا تھا ؟ اس سادگی اور درویشانہ کیفیت