اصحاب احمد (جلد 1) — Page 74
73 * وو ” جب آتھم کی معیاد کا آخری دن تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو بلایا اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔اطَّلَعَ اللهُ عَلى هَمّهِ وَغَيّہ اور اس کی تفہیم یہ ہوئی ہے کہ کی ضمیر آتھم کی طرف جاتی ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ وہ اس میعاد کے اندر نہیں مرے گا۔* مولوی صاحب نے قادیان میں آمدہ احباب کو اس بات کی اطلاع دے دی۔خلیفہ رجب الدین صاحب ( خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر ) سے (جو بعد میں خلافت ثانیہ میں جماعت سے الگ رہے) خود میں نے سنا کہتے تھے کہ اب ہم ان چالوں میں نہیں آ سکتے۔اس بات کی اطلاع مولوی صاحب نے حضور علیہ السلام کو دیدی۔حضور اسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فصیل والے پلیٹ فارم پر موجودہ درزی خانہ سے لے کر ڈاکٹر غلام غوث صاحب کے مکان تک ہوتا تھا ٹہلنے لگے اور فرمایا کہ باوجود یکہ حضرت یونس کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔قوم کی عاجزی اور تضرع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا عذاب ٹال دیا اور چونکہ آتھم نے بھی اس میعاد کے اندر بہت عاجزی اور تضرع کا اظہار کیا۔بلکہ جس وقت مباحثہ کے آخر پر میں نے کہا تھا کہ ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں کی ہیں۔اُسے پندرہ ماہ کے عرصہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا۔تو اس نے اسی وقت کان کو ہاتھ لگا کر کہا تھا کہ نہیں میں نے اُن کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔وہ اس میعاد میں ہر وقت ڈرتا رہا۔اس طرح اس نے رجوع کر لیا اور شرط رجوع پوری ہوگئی۔اس لئے اس پر سے عذاب ٹل گیا۔انداز دو گھنٹے تک حضور نے تقریر فرمائی اور لوگوں کو تسلی ہو گئی۔tek پندرہ ماہی میعاد کی آخری تاریخ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی۔۴ ایک غیر احمدی کورٹ انسپکٹر جن کے سپرد آخری ایام میں آتھم کی کوٹھی کے پہرہ کا انتظام تھا۔میعاد گذرنے پر جو کچھ ہوا اس کا حال ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ** یہ الہام اور اس کی تشریح انوار الاسلام ( محرره ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء) میں ملاحظہ فرمائیں۔(مؤلف) یہ روایت املا کے طور پر منشی صاحب نے مجھے لکھوائی تھی اور پھر میرے کہنے پر انہوں نے لکھی ہوئی خود بھی پڑھ لی تھی۔(مؤلف)