اصحاب احمد (جلد 1) — Page 29
29 کامل نبی محمد مصطفے ( علیہ الصلوۃ والسلام ) کو ملی۔تیرے طفیل سے ہم نے خدا کو قرآن کو اور حامل قرآن کو ( علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات ) پایا۔ہاں تیرے ہی ذریعہ سے ہم خدا تعالیٰ کی سنتوں اور ایام سے واقف ہوئے۔تیرے ذریعہ سے ہم نے تقویٰ وطہارت کی راہوں کے دقائق کو معلوم کیا۔اگر تو نہ آتا تو ہم عام مشر کا نہ خیالات و عقائد کے لوگ ہوتے یا ایک گونگے لیے بے زور بے قدرت بے زبان اور ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے اور عالم اور اس کے تصرف سے دست بردار اور دوست و دشمن میں امتیاز نہ کر سکنے والے اور پُر جوش گداختہ دل مخلص کی دعا اور لغو فقرات میں فرق نہ کر سکنے والے اور پھر اس پر کچھ بھی مترتب نہ کر سکنے والے خدا کے نیچریوں کی طرح ماننے والے ہوتے۔اے احمد! اے مسیح ! اے مہدی ! اے آدم! اے نوح ! اے ابراہیم! اے یوسف ! اے موسے اے عیسے ! اے علی ! اے فاروق ! خدا کی رحمت تجھ پر ہو۔دعا کر کہ ہمارا جینا تیرے ساتھ ہو۔ہمارا مرنا تیرے ساتھ ہو اور ہمارا جی اُٹھنا تیرے ساتھ اور تیرے لوا کے نیچے ہو۔” خدا تعالیٰ نے حضرت مبارک احمد کی ولادت سے ایک روز قبل اور ولادت کے ایک روز بعد حضرت اقدس کو اس پاک مولود کی زبان سے الہام کیا کہ وہ فرماتا ہے۔إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَأُصِيبُهُ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہوں اور اسی کی طرف جاتا ہوں۔پھر اس کے بعد الہام ہوا۔كَفَىٰ هَذَا مجھے خوب یاد ہے تین سال سے زیادہ عرصہ ہوا۔حضرت اقدس نے فرمایا تھا۔آج میری پشت میں چوتھے لڑکے کی روح حرکت میں آئی اور اپنے بھائیوں کو آواز دی کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کا فاصلہ ہے۔دیکھو انجام آتھم صفحہ ۱۸۲ ۱۸۳۔اور صفحہ ۱۸۳ کے شروع میں جلی قلم سے لکھا ہے کہ فتحرك في صُلبى رُوحُ الرابع بعالم المكاشفة فنادا اخوانه وقال بینی و بینکم ميعاد يوم من الحضرة۔