اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 248 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 248

247 قادیان حج سے قبل نہ جا سکے تو راستہ بھر حضور کو یاد کرتے رہے کہ قادیان جانا تھا۔حج ختم ہوتے ہی فرمانے لگے۔سیدھا یہاں سے پہلے حضرت صاحب کے پاس جانا ہے اس کے بعد گھر جائیں گے۔لیکن مکہ مکرمہ میں دو تین روز بخار رہا۔ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب ہندی کا علاج شروع ہوا۔موٹروں کی باری دیر سے آنے کے باعث دیر ہوگئی تو فرمانے لگے اگر معلوم ہوتا کہ اتنی دیر لگے گی اور موٹروں کی اتنی تنگی ہے تو ہم بمبئی سے موٹر لے آتے۔مکہ مدینہ کا سفر کر کے واپسی پر موٹر بمبئی چھوڑ کر ہندوستان چلے جاتے۔بار بار کہتے کہ حضور کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھو۔اسی بیماری کی حالت میں ساتھیوں کی وجہ سے مجبوراً ہمیں مدینہ منورہ کا جلد سفر کرنا پڑا۔آپ کو موٹر میں لٹا کر لے گئے۔اور ۳۰۰ میل لمبا سفر تیسرے دن تک دن رات کرنا پڑا۔جس سے کافی نقاہت ہو گئی۔راستہ میں دودھ اور مختلف یا قوتی اور یونانی ادویات کا استعمال کرایا گیا جو ساتھ تھیں۔مدینہ منورہ میں ورود : بالآخر جب اس انتہائی کمزوری کی حالت میں آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے جہاں سے رسول اللہ صلعم کا روضہ نظر آتا ہے۔آپ فریش اور موٹر میں لیٹے ہوئے تھے اُٹھنے کی طاقت ہ تھی۔خود اُٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکتے تھے کہ سارے موٹر والوں نے رسول اللہ صلعم کا روضہ دیکھ کر درود پڑھنا اور یا رسول اللہ یا رسول اللہ ! کہنا شروع کر دیا۔اور سب کے سب رونے لگے تو آپ بھی زار و قطار رونے لگے وہ ایک اونچا حصہ ہے جہاں سے مدینہ منورہ نشیب میں نظر آتا ہے۔اس کے تھوڑے ہی دُور بعد مدینہ منورہ کا باب عنبری واقع ہے جو باب الداخلہ ہے چنانچہ جب موٹر مدینہ منورہ پہنچی وہ جمعہ کا روز اور وقت ۱۲ بجے کا تھا کہ سیٹھ صاحب کو شدید سردی شروع ہوئی۔آپ بہت کا مینے لگ گئے نقاہت بھی بہت تھی سارے لوگ مدینہ منورہ میں چلے گئے ایک گھنٹہ تک انتظار کرنا پڑا۔اتنے میں شہری چار پائی منگوائی گئی اور اُس کو اٹھانے والے عروب آئے۔شہری پر آپ کو مدینہ منورہ کے اندر داخل کیا گیا۔آپ کھلی آنکھوں روضہ مبارک کو دیکھتے اسی حالت میں درود پڑھتے سلام کرتے، غرض عجیب کرب و اضطراب اور عجیب خوشی کے عالم میں داخل ہوئے۔آپ کو سیدھا باب عنبری سے حسین بی کے رباط ( یعنی سرائے ) میں جو حیدر آبادیوں کے لئے مخصوص ہے اُتارا گیا