اصحاب احمد (جلد 1) — Page 242
241 بھی حصہ لے سکتے ہوں تو بھی مجھے اطلاع دے دیں تا کہ دفتر میں اندازہ رہے کہ کس قدر رقم کی دوستوں سے امید کی جاسکتی ہے اور کام فوراً شروع کیا جا سکے اس طرح جو صاحب حصہ لینا چاہیں انہیں بھی چاہئے کہ فوراً اطلاع دیں کہ کس قدر رقم وہ اس تحریک پر شامل کر سکیں گے۔ہاں یہ یادر ہے کہ اگر وہ وعدہ کریں تو اس کا دو ماہ میں پورا کرنا ضروری ہوگا۔میں سب سے پہلے ثواب میں شامل ہونے کیلئے ایک سو روپیہ کا وعدہ اپنی طرف سے کرتا ہوں۔والسلام خاکسار مرز محمود احمد نوٹ: سیٹھ صاحب نے ہر دو تحریکات بالا میں حصہ لیا۔۲/۱۰/۲۸ خلیفہ اسیح الثانی حج بیت الله : اخویم مولوی محمد اسماعیل صاحب وکیل و اخویم سیٹھ عبدالحئی صاحب نے سیٹھ صاحب سے ذکر کیا کہ اب جنگ ختم ہونے کے بعد حالات اچھے ہو گئے ہیں۔کیا آپ حج کے لئے جائینگے۔آپ نے عزم کر لیا اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تار دیا کہ حج کو جانے کا ارادہ ہے۔حضور مشورہ اور اجازت عنایت فرمائیں۔حضور کی طرف سے تار آیا کہ حج پر جانے کی اجازت ہے۔خط بھیجا جارہا ہے۔چنانچہ یہ خط درج ذیل ہے۔یہ سیٹھ صاحب کے نام حضور کا آخری مکتوب ہے: مکرمی سیٹھ حسن صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا خط ملا اور ہیضہ اور طاعون کا علم ہوا۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔عزیز۔۔۔۔۔کیلئے دعا کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت بخشے آپ کے حج پر جانے کا بھی علم ہوا اللہ۔۔۔۔مبارک فرمائے۔کم سے کم دو ہزار فی کس رقم ساتھ رکھ لینی چاہئے کچھ ہنڈی کی صورت میں اور کچھ نقد اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور سچا۔۔۔۔۔۔عطا فرمائے۔سور و پیل گیا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ایڈریس۔سیٹھ حسن صاحب۔یاد گیر حیدر آباد دکن والسلام خاکسار مرزا محمود احمد