اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 241 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 241

240 میں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ اس سال قحط کے آثار ہیں اور زیادہ دوست خصوصاً زمیندار احباب حصہ کم لے سکیں گے۔اس لئے ایک سال یہ بوجھ نہ اٹھایا جائے۔بلکہ اس سال صرف زمین خریدنے پر بس کی جائے۔اور عمارت کے لئے آئندہ سال تحریک کی جائے جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے زیادہ مقدار میں دوست اس تحریک میں حصہ لے سکیں۔اوپر کی ضرورت کے علاوہ میں دو اور ضرورتوں کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں۔اول تو یہ کہ چند ماہ سے ٹریکٹوں اور پریس کے ذریعہ سے پیغامیوں نے نہایت سخت پرو پیگنڈہ سلسلہ کے خلاف شروع کر رکھا ہے اور اس کا خطرناک اثر پیدا ہورہا ہے۔بہت سی جماعتوں کی چٹھیاں آ رہی ہیں کہ اس پرو پیگنڈہ کی وجہ سے غیر احمدیوں میں تبلیغ رک گئی ہے اور اس امر کی اس قدر رپورٹیں آئی ہیں کہ ضروری ہے کہ اس پروپیگنڈہ کا مقابلہ کیا جائے۔پریس کے ذریعہ سے بھی اور ٹریکٹوں کے ذریعہ سے بھی۔تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا مذ ہب تھا۔اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ لوگ غیر احمد یوں کو دھوکہ دے رہے ہیں یہ خود بھی ان کو جو کچھ سمجھتے ہیں ایسا خوشکن نہیں اور ان کا عمل اور ان کا قول مخالف ہے۔دوسری ضرورت یہ ہے کہ اس سال زکوۃ کے فنڈ پر بہت بوجھ پڑ جانے کے سبب سے یہ فنڈ بالکل کمزور ہو گیا ہے۔اور اس بجٹ سے غرباء کی اس سال کی ضرورت پوری نہ ہو سکے گی۔اس کے لئے بھی پانچ سات سو روپیہ کی ضرورت ہوگی تا غرباء کو تکلیف نہ ہو۔چونکہ غرباء کی امداد بھی مذہبی اصول سے خاص اور اہم ضرورت ہے اور اول درجہ کے فرائض میں سے ہے۔اس لئے اوپر کی دونوں ضرورتوں اور زمین کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کچھ رقم اس چندہ میں سے ان دوضرورتوں کے لئے منتقل کر دی جائے گی اور باقی زمین خریدنے پر خرچ کر دی جائے گی۔میں نے ان دوستوں کے لئے جو اس چندہ میں حصہ لینا چاہیں چار درجے مقرر کئے ہیں۔ایک پچاس روپے کا۔دوسراسو کا۔تیسرا دوسو کا اور چوتھا تین سو کا۔تا کہ جو دوست اپنی خوشی سے حصہ لینا چاہیں وہ اپنی طاقت کے مطابق اس میں حصہ لے سکیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں تو ضرور حصہ لے کر ثواب حاصل کریں گے۔لیکن میں ایک امر ایک دفعہ پھر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ چندہ لازمی نہیں ہے۔اور ضروری نہیں کہ آپ اس میں ضرور حصہ لیں۔لیکن یہ ضروری ہے کہ اس خط کے پہنچنے پر اگر آپ نہ