اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 232 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 232

231 سے پچاس نادار بچیوں کے جملہ اخراجات آپ کے ذمہ تھے دنیوی تعلیم کیساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی تھی اور بچیوں کی نمازوں اور اخلاق کی سخت نگرانی کی جاتی تھی۔یہ مدرسہ جو بعد میں سرکاری طور پر منظور ہو گیا تھا۔دس سال تک جاری رہا۔سیٹھ صاحب نے یاد گیر میں ایک احمد یہ لائبریری بھی قائم کی تھی۔جس میں مختلف علوم حدیث۔فقہ سیرۃ وسوانخ۔تاریخ۔سلسلہ احمدیہ۔مناظرہ۔مذاہب مختلفہ وغیرہ کی چار ہزار کتا میں رکھی گئی تھیں اور سلسلہ کے اخبارات کے علاوہ جاذبیت پیدا کرنے کے لئے دہلی حیدر آباد وغیرہ کے اور اخبارات بھی منگوائے جاتے تھے۔ممبران میں سے جو چاہتے ان کے مکانوں پر بھی کتب پہنچانے کا انتظام تھا۔تعلقہ یاد گیر میں یہ نرالی قسم کی لائبریری ہے۔سیٹھ صاحب اس پر تین ہزار روپیہ سالانہ صرف کرتے تھے اور اب بھی آپ کے ورثاء اس کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔دس گھنٹے روزانہ کھلتی ہے اور دن بدن ترقی پر ہے۔سالانہ سات ہزار اشخاص اس سے مستفید ہوتے ہیں۔غیر مسلموں کو وہاں مذہبی تحقیقات کا بھی موقع ملتا ہے۔اس لائبریری کے قیام میں مکرم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے بھی کافی مدد دی تھی۔کے سیٹھ صاحب نے پانچ ہزار روپے کے قرآن مجید تقسیم کئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک تراجم القرآن میں پانچ ہزار روپیہ دیا۔میر مجد احد یہ بادگیر پردس ہزار خرچ کیا۔سلسلہ کی کتب چھپوانے مصنفین اور کتب فروشان سلسلہ کی امداد - منارة امسیح تعمیر مسجد چنت کنہ۔غیر احمدیوں کو زیارت قادیان کے لئے لانے وغیرہ پر آپ نے قریباً نصف لاکھ روپیہ خرچ کیا۔فرماتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ احمدیوں کی تدفین کے متعلق رکاوٹ پیدا ہوگی۔اس لئے آپ نے اپنی اراضی میں سے کئی گھماؤں کے ایک قطعہ میں احمدیہ قبرستان قائم کر دیا۔آپ نے یاد گیر میں احمدیہ لیکچر ہال تعمیر کیا۔اور وہاں جلسوں کا طریق رائج کیا۔اس لئے یاد گیر میں عورتوں اور مردوں کے ہفتہ وار اور ماہوار جلسے ہوتے ہیں اور چھیالیس سال سے سالانہ جلسے بھی ہور ہے ہیں۔آپ علماء کو بھی بلاتے رہتے تھے۔چنانچہ بزرگان سلسلہ میں سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، مفتی محمد صادق صاحب، مولانا غلام رسول صاحب را جیکی حافظ روشن علی صاحب مولانا میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی، شیخ یعقوب علی صاحب عرفاتی ، مولوی عبدالرحیم صاحب کنکی۔سید بشارت احمد صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کی آمد سے یاد گیر مشرف ہو چکا ہے۔ایسے مواقع پر آپ تواضع وغیرہ کا انتظام خود بہت اہتمام سے کرتے تھے۔آپ نے اپنی اولاد کو بھی تاکید کی تھی کہ وہ ہمیشہ علماء کو بلاتے رہیں۔