اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 21 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 21

21 * رَبِّ أَصِحٌ زَوْجَتِي هَذِهِ یعنی اے میرے خدا! میری بیوی کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے تندرست کر۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ ہے۔سواس الہام کو میں نے اس تمام جماعت کو سُنا دیا جو میرے پاس قادیان میں موجود تھی۔اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے بہت سے خط لکھ کر اپنے تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبر کر دی۔اور پھر جب ۱۳ جون ۱۸۹۹ ء کا دن چڑھا جس پر الہام مذکورہ کی تاریخ کو جو ۱۳ اپریل ۱۸۹۹ء کو ہوا تھا، پورے دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکے کی مجھ میں رُوح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا میں نے سُنا۔إِنِّی أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَأُصِيبُهُ یعنی اب میرا وقت آ گیا اور میں آب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا اور پھر اُسی کی طرف جاؤں گا۔۔۔۔اور پھر بعد اس کے ۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا۔" مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی کہ میں تجھے ایک اور لڑکا دوں گا۔اور یہ وہی چوتھا لڑکا ہے جواب پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔اور اس کے پیدا ہونے کی خبر قریباً دو برس پہلے مجھے دی گئی اور پھر اس وقت دی گئی کہ جب اس کے پیدا ہونے میں قریباً دو مہینے باقی رہتے تھے اور پھر جب یہ پیدا ہونے کو تھا یہ الہام ہوا۔إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَأُصِيبُهُ یعنی میں خدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں۔اور خدا ہی کی طرف جاؤں گا۔میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہوگا اور رُو بخدا ہوگا اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی۔اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔اس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔“ ہے حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاء ھا فرماتی ہیں کہ ”مبارک بُدھ کے دن سہہ پہر کے وقت پیدا ہوا تھا۔‘ سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۳۶۰ (مؤلف)