اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 198 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 198

197 ایک ماہ کیلئے تحریک ملکانہ کے سلسلہ میں آگرہ گئے۔اس وقت امیر صوفی محمد ابراہیم صاحب بی۔ایس سی ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان حال ربوہ تھے۔ایک جماعت کے افراد سے چندہ نہیں مانگا جاتا تھا مبادا بگڑ جائیں۔منشی صاحب کو یہ بات ناگوار گذری آپ نے وعظ کیا جس کے نتیجہ میں بہت سا چندہ نقد جمع ہو گیا۔بعض نے چھ چھ ماہ کا بقایا اور بعض نے ایک ایک سال کا چندہ ادا کر دیا۔تبلیغی شغف: ۱۹۳۹ء میں آپ نے چار ماہ تک مکیریاں ضلع ہوشیار پور اور مہت پور میں تبلیغ کی۔ایک ہندو اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر قادیان کو سارا قرآن مجید با ترجمہ اور کچھ اردو کی بخاری اور دیگر کتب پڑھا ئیں۔وہ کہتا تھا کہ اقارب کی روک کی وجہ سے میں مسلمان نہیں ہوا۔یہ صاحب مجھے مؤلف کو بھی تقسیم ملک کے بعد ایک سٹیشن پر ملے تھے اور اب تک منشی صاحب کو یاد کرتے تھے۔ایک اور ہندو اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر قادیان جو سخت معاند تھا آپ کی تبلیغ سے بہت متاثر ہوا۔اور ایک ہندو تھانیدار متعین قادیان کو قاعدہ اور پہلا پارہ قرآن مجید پڑھایا آپ ہمیشہ ہی ہندوؤں اور غیر احمد یوں میں تبلیغ کرتے رہتے تھے بالخصوص قادیان کے تھانیداروں اور عملہ ریلوے سٹیشن کو۔میں نے دیکھا ہے کہ در مشین اردو کے چھوٹے سائز کے نسخے ہمیشہ اپنے پاس رکھتے اور تبلیغ کیلئے تقسیم کرتے رہتے تھے۔آپ کو جو تبلیغ کی دُھن تھی اس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ آپ چند سال قبل مرض سرطان جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوئے۔جس کے علاج کے لئے میوہسپتال لاہور میں داخل ہوئے۔اعلی پایہ کا ڈاکٹر آپ کو دیکھنے آتا۔آپ اسے داڑھی منڈا دیکھ کر گڑ ھتے کہ کیسے سمجھا ئیں۔ایک روز اُسے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب کیا اس عید پر قربانی کریں گے؟ ڈاکٹر نے یہ سمجھ کر کہ یہ غریب آدمی معلوم ہوتے ہیں گوشت کھانا چاہتے ہیں۔کہا کہ کیا آپ کو گوشت درکار ہے۔؟ فرمانے لگے میں نے اس لئے پوچھا ہے کہ شریعت کا حکم ہے کہ اگر عید الاضحی پر قربانی کرنی ہو تو اتنے روز تک حجامت سے احتراز کیا جائے لیکن آپ روزانہ حجامت کرواتے ہیں۔آپ موصی تھے دفتر اول تحریک جدید میں ابتداء سے حصہ لیتے رہے۔اس طرح آپ تاحیات السابقون الاولون میں شامل ہوئے۔آپ نے چندہ تراجم القرآن چندہ مسجد لندن ادا کیا۔آپ کی اصلی زندگی : منشی صاحب کی شادی محترمہ رانی صاحب دختر شمس الدین صاحب قوم شیخ سکنہ سیالکوٹ شہر سے اندازاً ۱۸۸۷ء میں ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تو موصوفہ کو حضور کی زیارت کا موقعہ ملا۔جب منشی صاحب ستمبر 1900ء میں قادیان سے بیعت کر کے واپس سیالکوٹ پہنچے