اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 184 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 184

183 منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ * خاندانی حالات: منشی محمد اسماعیل صاحب کے جد امجد عطر سنگھ سکنہ چوہڑ کا نہ ضلع شیخو پورہ جو راجپوت ورک تھے کشمیر چلے گئے۔اور ایک مسلمان نواب کے رسالہ میں ملازم ہو گئے۔اور پھر مسلمان ہو گئے۔مسلمان ہونے پر آپ کا نام عطر باب ہو گیا۔نیک ہونے کی وجہ سے لوگوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔منشی صاحب کے پڑدادا محمد حیات صاحب کی ہمشیرہ سے اس نواب نے شادی کرنا چاہی اور وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔اس لئے کشمیر سے بھاگ کر سیالکوٹ آ گئے اور بعد ازاں ہمشیرہ کی شادی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ کے والد کے نانا سے ہوئی۔منشی صاحب کے والد حنفی طریق کے نیک لوگوں میں سے تھے۔اور دعا گو تھے۔منشی صاحب جب چھ سات سال کی عمر کے تھے ان کی ایک نصیحت کی وجہ سے عیسائیوں کے پھندے سے بچ گئے تھے۔پہلے کوئٹہ میں ملازمت کرتے رہے۔پھر تجارت کرنے لگے۔اسی سلسلہ میں کوئٹہ کے علاقہ کی طرف گئے ہوئے تھے کہ ۸ اگست ۱۸۸۵ء کو وفات پاگئے۔منشی صاحب کی والدہ مسمات عمراں بنت عبدالرحیم قوم بھٹی راجپوت سکنہ سیالکوٹ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی پھوپھی تھیں۔۱۰ فروری ۱۹۳۳ء کو فالج سے فوت ہوئیں اور اب بہشتی مقبرہ میں آرام فرماتی ہیں۔ابتدائی وصیت کرنے والوں میں تھیں۔چنانچہ ان کا نمبر وصیت ۹۱۲ ہے۔اپنے بیٹے غلام قادر صاحب کے ہمراہ قادیان آ کر اپنے بھتیجے مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے پاس ٹھہریں اور غالباً اسی عرصہ میں بیعت سے مشرف ہوئیں۔قبول احمدیت کے بعد نمازوں میں با قاعدہ * بائیس سال قبل کی بات ہے کہ زمانہ طالب علمی میں مجھے یہ شوق ہوا کہ جن صحابہ کو دیکھنے کا موقعہ ملا ہے ان کی فہرست بناؤں۔بعد ازاں یہ شوق بڑھا اور ان سے جو گفتگو کرتا وہ بھی تحریر میں لے آتا۔۱۹۷۵ ء میں مجھے خیال آیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے سوانح قلمبند کروں چنانچہ منشی صاحب سے جو حضرت مولوی صاحب کے برادر نسبتی تھے ذکر کیا۔آپ نے بہت انشراح سے یہ تجویز منظور کی۔چنانچہ مسجد مبارک میں عصر کے بعد آپ حالات لکھواتے۔بعد ازاں یہ تعلق محبت میں تبدیل ہو گیا۔انہی دنوں میں نے آپ کے سوال بھی قلمبند کئے اور پھر اپنے الفاظ میں تحریر کئے۔اور آپ نے ان پر نظر ثانی کر کے معمولی اصلاح بھی کر دی۔ہر دو مسودات پر آپ کے دستخط ثبت ہیں اور میرے پاس محفوظ ہیں۔آپ کے اور آپ کی اہلیہ اور بھائی کے حالات میں جہاں ماخذ کا ذکر نہیں وہ انہیں مسودات میں سے لئے گئے ہیں۔آپ کے متعلق جو باتیں دوسروں کی طرف سے بیان کردہ درج ہیں۔ان میں اکثر میں نے خود آپ سے سنی یا آپ میں دیکھی تھیں۔(مؤلف)