اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 168 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 168

166 کر کے شدت اور تکلیف کی زندگی برداشت کرنے اور قربانی کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوا۔ملک سعید احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ملک صاحب اپنے بچوں کے مطالبات پورا کرنے بلکہ کھانے پینے اور پہننے میں بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور اپنے سے اچھا پہناتے اور کھلاتے تھے۔اکــر مــوا اولادکم کے مطابق نہایت عزت سے ہمارے ساتھ گفتگو کرتے اور ہمیشہ ہمارے لئے آپ کا لفظ استعمال کرتے اور اس میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے۔دوسری طرف غناء کا یہ حال تھا کہ ہم سے کچھ مطالبہ کرنے کو نا مناسب سمجھتے تھے۔آپ کی صاحبزادی آمنہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ہم سب کو اپنی اولاد کے لئے دعا کرنے کے لئے کہتے اور ساتھ ہی فرماتے کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ بعض دوست خود تو بڑے دیندار تھے، مگر بعد میں ان کی اولادیں ویسی نہ نکلیں۔اس لئے ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔آپ کی رواداری اور قانونی مہارت : مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمد یہ وناظر اعلی قادیان فرماتے ہیں کہ : ملک مولا بخش صاحب نے اپنے عرصہ ملازمت میں ہر مذہب وملت کے لوگوں کے ساتھ ایسے تعلقات رکھے ہوئے تھے کہ تمام فرقوں کے لوگ آپ کے حسن سلوک کے مداح تھے۔چنانچہ مجھے امرتسر اور گورداسپور کے اضلاع میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔میں نے جملہ اہلکاراں اور وکلاء کے طبقہ میں آپ کی امانت اور دیانت کے متعلق ذکر بہترین الفاظ میں سُنا۔آپ کی ڈیوٹی یہ تھی کہ امسلہ کا خلاصہ نکال کر سیشن جج صاحب کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔اور جیسا کہ خود آپ نے مجھ سے بیان کیا تھاوہ خلاصہ کے ساتھ اپنی رائے بھی لکھ دیتے تھے۔اس لئے مقدمہ کے مخالف اور موافق وکلاء ہمیشہ مسل پیش ہونے کے قبل آپ سے دریافت کیا کرتے تھے کہ ہمارے مقدمہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کی رائے ہر معاملہ میں صائب ہوتی ہے۔وکلاء آپ کے خلاصہ سے فائدہ بھی اٹھایا کرتے تھے۔آپ جہاں اپنے تمام عرصہ ملازمت میں پوری تندہی اور دیانت وامانت کے ساتھ اپنے مفوضہ کام کو سرانجام دیتے رہے وہاں پبلک کے ساتھ بھی ہمدردی سے پیش آتے تھے۔اور اگر کوئی فریق مقدمہ آپ سے مشورہ طلب کرتا تو اُسے دیانتدارانہ مشورہ دیا کرتے۔اور اگر آپ یہ سمجھتے کہ اس کا کیس کمزور ہے تو اُسے صاف کہہ دیتے تھے کہ مقدمہ میں وکلاء وغیرہ کے اخراجات پر روپیہ ضائع نہ کرو۔یہاں