اصحاب احمد (جلد 1) — Page 163
161 سیالکوٹ سے ( جو ۲۴۔۲۵ اکتو بر ۱۹۵۰ء کو ہوا ) فارغ ہو کر اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ زندگی کے آخری دن ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ اپنے بڑے لڑکے سعید احمد کے پاس راولپنڈی چلا جاؤں تا کہ بیماری کے وقت وہ قریب ہوں۔کیا معلوم تھا کہ دو ایک روز میں ہی کوس رحلت بجنے والا ہے اور بچوں میں سے سوائے چھوٹی بچی کے اور کوئی پاس نہ ہوگا۔مرض الموت۔وفات اور تدفین : ملک سعید احمد صاحب بیان کرتے ہیں : ۱۲۷ اکتوبر ۱۹۵۰ء کی صبح کو 9 بجے کے قریب والدہ صاحبہ سے چائے مانگی وہ گرم کرنے لگیں تو کہنے لگے کہ آپ چائے گرم کریں میں ابھی کبوتروں کا شکار کر کے واپس آتا ہوں۔اس سے قبل بھی وہ شکار سے واپس آئے تھے اور راستہ میں کبوتر دیکھے تھے اباجی کے ( گھر سے ہو کر واپس پہنچنے تک کبوتر اڑ چکے تھے۔اس لئے بغیر شکار کئے واپس آگئے۔آتے ہی اندر بندوق رکھی اور چار پائی پر بیٹھتے ہوئے والدہ کو کہا کہ میرا سر پھٹ رہا ہے جلدی سے چائے دو۔والدہ چائے لینے گئیں۔چند سیکنڈ بعد کسی کام کو پھر والد صاحب کی طرف آئیں تو دیکھا چار پائی پر بیٹھے جھک گئے ہیں۔انہوں نے آوازیں دیں لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔والدہ صاحبہ قریب آئیں تو دیکھا بے ہوش ہیں۔آپ نے چار پائی پر لٹا دیا۔ڈاکٹر بلایا گیا۔اس نے ٹیکہ لگایا۔حکیم پیراحمد صاحب ہوشیار پوری نے انہیمہ وغیرہ کیا لیکن ابا جان کوئی بات نہیں کر سکے۔سوائے اس کے کہ جب والدہ نے چار پائی پر ان کو لٹایا تو دو تین مرتبہ اللہ اللہ کہا۔آنکھیں پتھرا گئیں اور دائیں جانب فالج کا حملہ ہوا۔کسی بات کا جواب نہیں دیا شاید سُن بھی نہ رہے تھے۔چھوٹی ہمشیرہ بھی پہنچ گئیں لیکن اس کے آنے پر بھی کسی طور سے اس بات کا اظہار نہیں ہوا کہ وہ ہوش میں ہیں۔اسی بے ہوشی کی حالت میں رات کے گیارہ بجے ۲۷ اور ۱۲۸ کتوبر 66 کی درمیانی شب اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔“ آپ کا جنازہ مکرم قاضی علی محمد صاحب خطیب جامع مسجد سیالکوٹ نے ۱۲۸ اکتوبر بروز جمعہ بر وقت ۶:۲ بجے شام قبرستان سائیں مونگاولی میں پڑھا اور آپ کو اسی قبرستان میں بطور امانت دفن کیا گیا۔* ۱۹۵۰ء تک آپ کی قبر معروف ہے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ربوہ میں جنازہ غائب پڑھایا۔* بیان حکیم سید پیراحمد صاحب سیالکوٹ۔(مؤلف) * * بیان ملک سعادت احمد صاحب۔(مؤلف) **