اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 156 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 156

154 باندھ کر پر کر دیا ہے مجھ کو محصور حصار شوق کہتا ہے کہ اُڑ چل کھا ہوائے قادیاں ہے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ ملک صاحب کے گورداسپور کے قیام کے دوران میں جب بھی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔حضور ہمیشہ آپ ہی کے ہاں قیام فرماتے اور یہ کہ آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت محبت تھی۔بر وقت نصرت الہی کا ایک واقعہ : ڈیرہ غازی خاں سے پندرہ میل کے فاصلہ پر بستی رنداں نامی ایک گاؤں قریباً سارا احمدی ہے۔ان میں اختلافات تھے۔جماعت کی طرف سے مکرم مولوی محمد عثمان صاحب۔مکرم حکیم عبد الخالق صاحب اور آپ کو رفع اختلافات کے لئے بھیجا گیا۔یہ وفد کوٹ چھٹہ تک تو لاری پر گیا اور بقیہ چھ میل طے کرنے کو ایک ٹم ٹم کرایہ پر لی۔گرمی کا وقت تھا۔گھوڑا تھک کر گر گیا اور بہتیری کوشش کی گئی لیکن نہ اُٹھا۔ملک صاحب پیدل روانہ ہو گئے۔دوسرے دوست ابھی اس کے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے اتنے میں دور سے ایک شخص سفید گھوڑا سرپٹ دوڑائے نظر آیا۔آپ نے خیال کیا کہ اگر یہ شخص واقف ہوا اور اس کا گھوڑا ٹانگے کولگ سکا تو ہم اسے جوت لیں گے اور سوار ٹانگے والے گھوڑے پر سوار ہو سکے گا۔لیکن جب سوار نے مقامی دوستوں سے سلام کلام نہ کیا تو آپ سمجھے کہ یہ کوئی اجنبی شخص ہے۔سوار اسی طرح گھوڑا سرپٹ دوڑائے چلا آیا اور بالکل آپ کے پاس آ کر گھوڑے سے اتر کر کہنے لگا۔” ملک صاحب اس پر چڑھ جائیں۔یہ شخص آپ کا واقف قادر بخش گر داور قانونگو تھا۔ملک صاحب نے غذر کیا اور کہا کہ آپ چلیں میں پیدل آ جاتا ہوں۔لیکن اس نے کہا کہ کوئی بات نہ کریں اس پر بیٹھ جائیں۔یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔چنانچہ دریافت کرنے پر اُس نے کہا کہ چند سال سے میں روزانہ اس گھوڑی پر بستی رنداں سے اپنے حلقہ کو جاتا ہوں۔اور کبھی اس نے کان تک نہیں ہلایا اور میرے اشارہ پر چلتی تھی۔مگر آج نہ معلوم کیا ہوا کہ جب گاؤں سے میں نکلا تو یہ واپس مڑ گئی اور بھا گنا شروع کیا۔ہر چندا سے روکنے کی کوشش کی لیکن نہ رکی۔یہ دیکھئے میرے ہاتھ بھی باگیں کھینچ کھینچ کر سُرخ ہو گئے ہیں۔لیکن آپ کے پاس پہنچ کر خود بخود ٹھہر گئی ہے۔بس آپ سوار ہو جائیں۔چنانچہ اس نے ملک صاحب کو بآرام بہستی رنداں پہنچایا اور اگلے روز بھی بآرام اور دوسروں سے پہلے واپس کوٹ چھٹہ پہنچا دیا۔عین وقت پر غیب سے نصرت الہی کے پہنچنے کی وجہ ملک صاحب یہ سمجھتے تھے کہ یہ وفد چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ کا ایک کام کرنے گیا تھا اور ملک صاحب موصوف پیدل چلنے کے عادی نہ تھے۔بالخصوص موسم گرما میں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے غیب سے یہ انتظام وسہولت پہنچادی۔فالحمد لله على ذالک۔