اصحاب احمد (جلد 1) — Page 125
123 آپ کے اوصاف حمیدہ: والدہ چوہدری ظہور احمد صاحب کی زندگی کا بڑا حصہ دیہات میں ہی گذرا اس وجہ سے آپ نے بہت سادہ طبیعت پائی تھی۔لیکن دو خو بیاں بہت نمایاں تھیں۔ایک صفائی کا خیال اور دوسرے مہمان نوازی۔آپ گھر بار کی صفائی کا بہت خیال رکھتیں۔گاؤں کی مستورات بوجہ احترام روزانہ گھر کا کام کاج کر جاتیں۔لیکن اس کے باوجود آپ گھر کی صفائی بسا اوقات اپنے ہاتھ سے بھی کرتیں۔گھر کی تمام چیزیں ایک قرینہ سے رکھی ہو تیں۔برتن خوب صاف کر کے اور چمکا کر لائینوں میں قرینہ سے رکھے جاتے اور دوسرا سامان بھی مقررہ جگہوں پر ہوتا۔مہمان بڑی کثرت سے آتے رہتے تھے اور ان کے شایان شان خاطر و مدارات کرتیں۔عموماً گھر میں بھینس رکھی ہوتی تھی۔دودھ اور گھی ہر وقت موجودرہتا تھا۔گھر میں مرغیاں بھی پالی جاتیں، اس طرح انڈے اور مرغ بھی موجود ہوتے۔اور آنے والے مہمانوں کی حسب حیثیت انہی چیزوں سے خاطر مدارات کی جاتی۔اور مہمانوں کے وقت بے وقت آنے سے نہ کبھی گھبراہٹ ہوتی اور نہ غیر معمولی خرچ کرنا پڑتا۔دیہات میں یہ طریق رائج ہے کہ مہمان اپنا بستر ساتھ نہیں لے جاتے۔صاحب خانہ کا فرض ہوتا ہے کہ تمام مہمانوں کے لئے حسب حیثیت بستر مہیا کرے۔اس لئے تمام دیہاتی شرفاء اس کا اہتمام رکھتے ہیں۔آپ کے ہاں بھی بڑی تعداد میں زائد بستر موجود رہتے تھے۔جن میں اضافہ ہوتا رہتا۔سارا سال آپ اور دیگر گھر میں آنے والی دیہاتی مستورات گھر میں چرنے پر سوت کات کر تیار کر کے ان سے لحاف اور تو شک کا کپڑا دو تہیاں اور کھیں تیار کراتی رہتیں اور اس طرح بغیر کسی زیادہ خرچ کے نئے بستر تیار ہوتے رہتے اور شادیوں وغیرہ کے مواقع پر یہی چیزیں تحائف کے طور پر بھی استعمال میں لائی جاتیں۔میاں بیوی دونوں کا اخلاص: منشی صاحب اور آپ کے اہلیت دونوں کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت محبت اور اخلاص تھا۔اور اس خاندان کی طرف سے بھی ان پر نوازشات ہوتی تھیں۔چنانچہ اوہ چپ جهان دوران ملازمت میں آپ کا قیام رہا ایک معمولی گمنام گاؤں ہے۔خوش قسمتی دیکھئے کہ ان کو یہ شرف حاصل ہوا کہ محض انہیں ملنے کے لئے مختلف اوقات میں حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاءها خلافت سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی) حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ مسیح الاوّل حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض دیگر افراد اور بزرگان سلسلہ ان کے گھر تشریف لائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنے کی سعادت: منشی صاحب اور مولوی رحیم بخش صاحب رضی اللہ عہنما کی کوششوں سے تلونڈی جھنگلاں میں ایک احمد یہ پرائمری سکول جاری ہوا۔منشی صاحب اس وقت سکول کے مینیجر تھے۔خلافت اولی کے زمانہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) سکول کے معائنہ کے