اصحاب احمد (جلد 1) — Page 121
119 چندوں میں با قاعدگی : منشی صاحب حسب توفیق مالی لحاظ سے بھی سلسلہ کی خدمت کرتے رہتے تھے بلکہ ہر قسم کی تحریکات میں اپنی طاقت سے بڑھ کر حصہ لیتے تھے۔دورانِ ملازمت میں بھی اور اس کے بعد بھی۔چنانچہ تحریک جدید میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بعض چندوں کی ادائیگی کا ذکر بھی اخباروں میں پایا جاتا ہے۔رسید زر کے عنوان کے تحت مرقوم ہے: منشی امام الدین صاحب پٹواری لوه چپ متصل قادیان دارالامان اسی طرح کالج فنڈ کی رسید زر کے تحت لکھا ہے: 66 د منشی امام الدین صاحب پٹواری لوه چپ صر ۵ ۶۰ اس فہرست میں تین احباب کے دود و آنہ کے چندہ کا اور زیادہ سے زیادہ ۱۲ آنے کے چندہ کا اعلان ہوا ہے۔مرض الموت وفات اور قطعہ خاص میں تدفین : آپ جسمانی لحاظ سے خوب توانا اور مضبوط تھے۔تمام دانت محفوظ تھے۔عینک صرف پڑھتے وقت استعمال کرتے تھے۔کئی کئی میل تک پیدل سفر کر لیتے تھے۔آخر وقت تک با وجود بڑھاپے کے رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھتے رہے چنانچہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری رمضان مبارک کے روزے بھی رکھے۔وفات سے تین سال قبل آپ کو پیٹھ پر بڑا خطرناک کار بنکل ہوا۔آپریشن ہونا تھا۔آپ نے اس امر کو پسند کیا کہ بغیر کلوروفارم کے آپریشن کر دیا جائے۔چنانچہ بڑی ہمت سے بغیر کلوروفارم کے آپریشن کرایا اور بیماری کا اچھی طرح سے مقابلہ کیا۔آپ اس بیماری سے تو صحت یاب ہو گئے لیکن اس کے بعد عام صحت اچھی نہ رہی۔مرض الموت میں آپ کے متعلق زیر عنوان مدینۃ المسیح بابت ۲۵ جولائی ) ذیل کا نوٹ شائع ہوا۔دو غشی امام الدین صاحب مہاجر متوطن او جلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں، سخت بیمار ہیں۔دعائے صحت کی جائے۔“ ہے۔وفات سے قبل اکثر لوگ عیادت کے لئے آتے۔ہر ایک سے یہی کہتے کہ اب کوئی خواہش نہیں۔اللہ تعالیٰ نے تمام خوشیاں دکھا ئیں۔دعا کریں کہ اللہ تعالی خاتمہ بالخیر کرے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انجام بخیر کیا۔پہلے عام قطعہ صحابہ میں دفن کرنے کی تجویز تھی۔قبر تیار تھی اور میت کو قبر میں اتارا جار ہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے