اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 11 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 11

11 کے لئے قلعوں کا رنگ رکھتے تھے لوگ ان سے نور حاصل کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذابوں اور مصیبتوں سے دنیا کو نجات ملتی تھی۔وہ شہر تھے جن سے تمام دنیا آباد تھی وہ بادل تھے جو سوکھی ہوئی کھیتیوں کو ہرا کر دیتے تھے۔وہ پہاڑ تھے۔جن سے دُنیا کا استحکام تھا۔اسی طرح وہ تمام بھلائیوں کے جامع تھے اور دنیا اُن سے امن اور سکون حاصل کر رہی تھی۔ہمارے لئے زمانہ تبدیل نہیں ہوا۔مشکلات کے باوجود ہمیں چین ملا آرام حاصل ہوا اور دنیا کے دکھوں اور تکلیفوں نے ہمیں گھبراہٹ میں نہ ڈالا مگر جب وہ فوت ہو گئے تو ہمارے سکھ بھی تکلیفیں بن گئے اور ہمارے آرام بھی دُکھ بن گئے۔پس اب ہمیں کسی آگ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے دل خود انگارا بنے ہوئے ہیں اور ہمیں کسی اور پانی کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ہماری آنکھیں خود بارش برسا رہی ہیں۔یہ ایک نہایت ہی عجیب نقشہ ایک صالح بزرگ کی وفات کا ہے۔اور کہنے والا کہتا ہے یہ اشعار اس مجذوب نے کہے اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔جب دوسرے دن اس کھنڈر کو دیکھا گیا تو وہ خالی تھا۔اور مجذوب اس ملک کو ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔تو یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔یہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد دوسرے درجہ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ بڑے لیکچرار ہوں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ خطیب ہوں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ پھر پھر کر لوگوں کو تبلیغ کرنے والے ہوں۔ان کا وجود ہی لوگوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتا ہے اور جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی نافرمانی کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب کو روک دیتا ہے اور کہتا ہے ابھی اس قوم پر مت نازل ہو کیونکہ اس میں ہمارا ایسا بندہ موجود ہے جسے اس عذاب کی وجہ سے تکلیف ہوگی۔پس اس کی خاطر دنیا میں امن اور سکون ہوتا ہے۔مگر یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بالا تھے ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابہ بننے کی توفیق عطا فرمائی اور ان کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے