اصحاب احمد (جلد 1) — Page 113
111 منشی امام الدین صاحب پٹواری* رضی اللہ عنہ ولادت، تعلیم اور ملا زمت : مکرم منشی امام الدین صاحب ۱۸۷۳ء میں میاں حکم دین صاحب قوم آرائیں کے ہاں اپنے آبائی گاؤں قلعہ درشن سنگہ میں پیدا ہوئے۔یہ گاؤں بٹالہ سے قریباً چار میل اور گورداسپور جانے والی سڑک پر واقع ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم موضع دیال گڑھ ضلع گورداسپور میں پائی اور پرائمری کا امتحان پاس کر کے مزید تعلیم کے لئے گورداسپور بھجوائے گئے اور کچھ عرصہ وہاں تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں محکمانہ امتحان پاس کر کے بطور پٹواری ملازم ہو گئے اور قریباً ۳۵ سال تک بہت نیک نامی کے ساتھ یہ ملازمت کرنے کے بعد سبکدوش ہوئے۔قبول احمدیت : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے وقت آپ موضع لوہ چپ ضلع گورداسپور میں متعین تھے۔۱۸۹۱ء میں آپ کے برادر نسبتی منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی رضی اللہ عنہ مدفون بہشتی مقبرہ ) موضع سیکھواں میں بطور پٹواری تبدیل ہو کر آئے۔ان ہی دنوں سیکھوانی برادران احمدیت قبول کر چکے تھے۔وہاں تھوڑا عرصہ قیام کرنے کے بعد منشی عبد العزیز صاحب احمدیت میں داخل ہو گئے اور انہوں نے منشی امام الدین صاحب کو تبلیغ شروع کر دی۔منشی عبد العزیز صاحب بیان فرماتے تھے کہ مجھے بہت فکر رہتا تھا، اور خواہش تھی کہ میرے بہنوئی بیعت کر کے جلد سلسلہ میں داخل ہو جائیں تا کہ اس طرح میری بہن بھی سلسلہ میں داخل ہو سکے لیکن اس وجہ سے کہ بہنوئی کی طبیعت جو شیلی تھی، ہم ان پر زور بھی نہیں دینا چاہتے تھے کہ مبادا ایک دفعہ انکار کر کے پھر اس پراڑے رہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ۱۸۹۴ء کے اوائل میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔* منشی صاحب اور آپ کی اہلیہ محترمہ کے حالات آپ کے بیٹے چوہدری ظہور احمد صاحب معاون ناظر امور عامه (ربوہ) کی طرف سے الفضل جلد ۲۷ نمبر ۲۶۴ بابت ۱۷ نومبر ۱۹۳۹ ء اور الرحمت جلد ۲ نمبر ۹ بابت ۳/ اپریل ۱۹۵۰ء میں شائع ہو چکے ہیں۔چوہدری صاحب نے اپنی والدہ محترمہ کے حالات میری تحریک پر کتاب ہذا کیلئے قلمبند کئے تھے۔گو انہوں نے اخبار میں بھی شائع کرادیئے۔میں نے چوہدری صاحب سے خط و کتابت کر کے مزید معلومات حاصل کیں۔سو یہاں ہر دو کے حالات ایزادی حوالجات، روایات، شجرہ نسب وغیرہ کے ساتھ درج کر رہا ہوں۔(مؤلف)