اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 100 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 100

99 تعارف نہ تھا۔موچی دروازہ سے باہر نکلتے ہوئے مغربی طرف کی پولیس لائن میں آپ رہتے تھے۔مجھے اپنے ہاں لے گئے۔رات میں آپ کا مہمان رہا۔آپ کا نیک سلوک اور محبت سے پیش آنا مجھے اب تک نہیں بھولا اور اس کا میرے دل پر اثر ہے۔پھر وہ اسی سال شاید موسمی تعطیلات میں قادیان آئے۔جتنا عرصہ قادیان میں قیام رہا۔میرے ساتھ شفقت کا سلوک کرتے رہے اور تربیتی پہلو مد نظر رکھتے تھے۔جب تک وہ زندہ رہے جب بھی قادیان آئے تو وہ ہمیشہ اپنے حسن اخلاق اور میل ملاپ میں یہ امر مد نظر رکھتے تھے کہ میں دینداری کے رنگ میں رنگین ہو جاؤں۔آپ بہت دیندار اور مخلص تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ کثرت سے قادیان آتے اور بٹالہ پہنچ کر آپ کا دل اس بات کو نہ مانتا کہ رات بٹالہ گزاریں، بلکہ دیوانہ وار راتوں رات قادیان آ پہنچتے سلسلہ کے لئے فدایت کا رنگ رکھتے تھے۔اہلی زندگی آپ کی شادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ بنت مرزا شمشیر بیگ صاحب سے ۱۸۹۳ء میں ہوئی تھی۔موصوفہ صحابیہ تھیں۔کئی بار قادیان کی زیارت کے لئے آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ سے اپنی بیٹیوں کی طرح شفقت اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔آپ (۱۸۷ء میں پیدا ہوئی تھیں اور ۲۱ اپریل ۱۹۰۴ء میں اٹھائیس سال کی عمر میں بمقام کلانور فوت ہوئیں۔مرزا صاحب کی یادگار ایک بچی بنام عصمت نشان تھی جو پانچ برس کی عمر میں ۱۲۸ اکتوبر ۱۹۰۰ ء کو فوت ہوئی۔مرض الموت کے حالات ڈاکٹر صاحب محترم کے قلم سے: برادران - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج میرے لئے نہایت حسرت اور افسوس کا دن ہے کہ مجھے اپنے اس عزیز اور نہایت ہی پیارے بھائی کی وفات کا تذکرہ آپ کے سامنے کرتا ہوں۔جو کہ اپنی جوانی اور عین شباب کے ایام میں جبکہ وہ نو نہال ابھی برگ و بر لانے کے قابل ہوا تھا۔یک لخت کاٹا گیا۔اور ہم سے اس دنیا میں ہمیشہ کیلئے دور ہو گیا، اور پسماندگان کے لئے داغ مفارقت چھوڑ گیا اور اپنی صرف ۲۵ سالہ عمر میں ہم سب سے پہلے دوسرے جہان میں بلایا گیا۔بھائی بھائی تو دنیا میں بہت ہوتے ہیں اور ایک بھائی کی وفات دوسرے کیلئے ایک بڑا بھاری صدمہ ہوتی ہے۔مگر اس بھائی مرحوم میں اور مجھ میں جو تعلق محبت اور مودت کا تھا میں دنیا کے برادرانہ رشتوں میں اس کی نظیر نہیں دیکھتا۔یہ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کا عاشق و شیدا تھا اور اس قدر دلی لگاؤ کی صرف