اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 91 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 91

91 ہیں۔لیکن یہاں پانچ سال کی لگاتار محنت اور مشقت کی خدمت نے ان کی مہر و وفا اور محبت پر مہر لگا دی ہے۔اس بے پناہ محنت اور مشقت نے ان کی اپنی صحت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔اب وہ مجھ سے زیادہ بیما رنظر آتی ہیں۔آپ احباب سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ کی صحت کیلئے مجھ سے زیادہ دعا کریں۔میں اس لئے زندہ رہنا چاہتا ہوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ میں زندہ رہوں۔ورنہ وہ اپنے گھرانہ کیلئے مجھے سے بہت زیادہ نافع اور مفید وجود ہیں۔میرے مولیٰ ! تیری رضا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے میری خدمت کی ہے۔اب تو اپنی ذرہ نوازی اور میری زاری کو سن۔اس کو پوری صحت عطا فرما۔ہم اس دنیا میں اکٹھے ہی رہیں۔اور ا کٹھے ہی اٹھیں۔مجھے تو نے دوبارہ زندگی دی ہے۔میں اس نئے دور زندگی میں تیرا زیادہ سے زیادہ قرب اور محبت حاصل کر سکوں تیرے دین اور سلسلہ کیلئے زیادہ سے زیادہ مفید و نافع وجود ثابت ہوسکوں۔ہمیں عبد شکور بننے کی توفیق دے۔میں نے اپنی بیماری کے آغاز میں خواب میں دیکھا کہ حضرت والد صاحب ایک باغ میں ہیں جس کے اردگرد ایک اونچی فصیل بنی ہوئی ہے۔لیکن میں اس کے اندر جانا چاہتا ہوں اور منٹوں کی طرح ایک بانس کا سہار لے کر اندر جانا چاہتا ہوں۔لیکن حضرت والد صاحب مانع ہور ہے ہیں۔اور ان کے حکم سے پولیس مجھے پکڑ کر لے گئی ہے۔اور مجھے پانچ سال کی قید سنادی گئی ہے۔یہ خواب میں نے کئی عزیزوں کو کئی بار سنایا ہے۔اور آج یہ خواب پورا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔کیونکہ میری بیماری کے عرصہ کو 8 فروری 1954ء کو پورے پانچ سال ہو جائیں گے۔میرے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ اور دیگر احباب کو کثرت سے بشارتیں ہوئی۔اور ان بشارتوں سے پتہ چلتا ہے کہ میری صحت اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اور ترقی کرے گی۔ابھی تک پوری صحت حاصل نہیں۔ابھی تک چلنے پھرنے سے عاری ہوں۔اس لئے احباب کی دردمندانہ دعاؤں کا بہت زیادہ ابھی محتاج ہوں۔اللہ تعالیٰ اس عرصہ کے اندراندرا اپنے رحم وکرم سے مجھے پوری صحت عطا فر مادے۔میرے پر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات کی فراوانی ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا کا اپنے آپ کو پورا پورا مصداق پاتا ہوں۔مجھے اس مضمون کے لکھنے کے وقت بھی ہر قدم پر فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کا ورد کرنے کیلئے میری روح تڑپتی رہی۔میرا ایمان ہے کہ میرا پیارا اور محسن خدا سزا دیتا ہے تو وہ چپت جو اس کی